.

محمود عباس اور فرانسیسی صدر جمعہ کو ملاقات کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے کل منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ آئندہ جمعہ کو فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے ساتھ اہم ملاقات کریں گے۔ خیال رہے کہ دو ہفتے قبل اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے بھی دورہ فرانس کے دوران فرانسیسی صدر سے ملاقات کی تھی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا کہ ہم فلسطین۔ اسرائیل تنازع کے پر امن حل کے خواہاں ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ فلسطین اور اسرائیل دونوں فریق بات چیت کا آغاز کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں کی جگہ کسی اور کو تنازع کے ایسے حل کی طرف نہیں جانا چاہیے جو فریقین میں سے کسی ایک کے لیے قابل قبول نہ ہو۔ اگر کوئی ایسا قدم اٹھایا جاتا ہے تو میں اسے غلط تصور کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وقت فرانس کے امن اقدام کے لیے مناسب نہیں ہے۔

قبل ازیں 10 دسمبر کو فرانسیسی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کو ملاقات کی دعوت دی تھی۔ قصر الیزے میں ہونے والی ملاقات میں فرانسیسی صدر نے نیتن یاھو سے کہا تھاکہ وہ فلسطینیوں کے حوالے سے جرات مندانہ فیصلے کریں۔ صدر ماکروں نے بنجمن نیتن یاھو پر زور دیا تھا کہ وہ امن عمل کو بند گلی کی طرف جانے بچانے کے لیے فلسطینیوں سے براہ راست مذاکرات شروع کریں۔

اس موقع پر اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم کا کہنا تھا کہ ہم امریکا کی طرف سے مشرق وسطیٰ کے لیے تیار کردہ امن منصوبے کے منظرعام پرآنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اردن نے امریکیوں پرواضح کیا ہے کہ ہم فلسطینیوں کے لیے آزاد مملکت کے قیام کےمطالبے پر قائم ہیں جس میں بیت المقدس کو دارالحکومت کا درجہ حاصل ہو۔

فرانسیسی صدر نے آئندہ سال موسم بہار یا گرمیوں میں اردن کا دورہ کرنے کا بھی اعلان کیا۔