.

4500 روسی بیرون ملک دہشت گرد گروپوں میں شامل

شدت پسندوں کی واپسی سے روسی حکام پریشان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے سیکیورٹی حکام نے بتایا ہے کہ قریبا ساڑھے چار ہزار روسی شہری دوسرے ملکوں میں دہشت گرد گروپوں کی صفوں میں شامل ہیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دہشت گرد گروپوں میں شامل عناصر ملک میں واپسی کے بعد ریاست کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

روس کے فیڈرل سیکیورٹی سروسز کے ڈائریکٹر الیکذنڈر بورٹنیکوف کا ایک بیان سرکاری اخبار ’روسیسکایا گازیٹا‘ میں شائع ہوا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ شام اور عراق میں ’داعش‘ کو شکست کے بعد امکان ہے کہ شدت پسند گروپ میں شامل عناصر روس واپس آسکتے ہیں۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ روس کے 4500 شہری دہشت گردوں کی صفوں میں شمولیت کے لیے بیرون ملک جا چکے ہیں۔

قبل ازیں روسی سیکیورٹی حکام ایک خبر میں یہ اطلاع دے چکے ہیں کہ مسلم اکثریتی علاقے قوقاز سے تعلق رکھنے والے 2900 شدت پسند شام اور عراق میں سرگرم ہیں۔

بورٹنیکوف نے بتایا کہ پچھلے پانچ سال کے دوران دہشت گردی کے الزامات کے تحت 9500 افراد کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔

روسی صدر ولادی میر پوتین کی جانب سے شام سے فوج کی مرحلہ وار واپسی کے اعلان کے بعد روسی فج نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ شام اور عراق میں موجود دہشت گرد بھی واپس آسکتے ہیں۔ حکام کو پریشانی ہے کہ دہشت گرد سنہ 2018ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کے موقع پر ملک میں بد نظمی پھیلا سکتے ہیں۔

تیس ستمبر 2015ء کو روس کی جانب سے شام میں فوجی مداخلت کے بعد داعش اور القاعدہ کے ذیلی گروپوں نے روس پر حملوں کی دھمکی دی تھی۔ رواں سال اپریل میں روسی شہر سینٹ پیٹرس برگ میں ہونے والے ایک دہشت گردانہ حملےمیں 16 افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے تھے۔