.

128 ملکوں نے القدس کو اسرائیلی صدر مقام قرار دینے کا امریکی فیصلہ مسترد کر دیا

امریکی دباؤ کے باوجود جنرل اسمبلی کے تقریباً دو تہائی ملکوں نے قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی [جسے پارلیمنٹ آف دی ورلڈ بھی کہا جاتا ہے] نے تقریباً دو تہائی اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیت المقدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت بنائے جانے کا اعلان مسترد کردیا گیا ہے۔ قرارداد میں امریکا سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔

قرارداد کے حق میں 128 ممالک نے ووٹ دیا، 35 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جبکہ نو ممالک نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ شہر کی حیثیت کے بارے میں فیصلہ ’باطل اور کالعدم‘ ہے اس لیے اسے منسوخ کیا جائے۔

اس سے قبل گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ مذکورہ قرارداد کے حق میں رائے دینے والوں کی مالی امداد بند کر دی جائے گی۔ تاہم امریکی دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود القدس کے حوالے سے قرارداد بھاری اکثریت سے مسترد کر دی۔

رائے شماری سے پہلے فلسطینی وزیرِ خارجہ نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ دھونس اور دھمکیوں کو خاطر میں نہ لائیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نے ممکنہ طور پر منظور ہونے والی اس قرارداد کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو ’جھوٹ کا گڑھ‘ قرار دیا تھا۔

گذشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے چار مستقل اور دس غیر مستقل ارکان نے بھی ایسی ہی ایک قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا تاہم صرف امریکی مخالفت کی وجہ سے قرارداد منظور نہیں ہوسکی تھی کیونکہ امریکہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔

سلامتی کونسل میں کسی بھی قرارداد کی منظوری کے لیے پانچوں مستقل ارکان، امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کا حق میں ووٹ دینا ضروری ہے۔

امریکا، اسرائیل، گوئٹیمالا، ہونڈیورس، دی مارشل آئسلینڈز، مائیکرونیشیا، نورو، پلاؤ اور ٹوگو نے قرارداد کی مخالفت میں ووٹ ڈالا۔

اس رائے شماری میں حصہ 35 ممالک نے حصہ نہیں لیا جن میں کینیڈا اور میکسیکو شامل ہیں۔

اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر چار مستقل ارکان چین، فرانس، روس اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، ایران، پاکستان اور امریکا کے اہم اتحادی مسلم ممالک شامل ہیں۔

واضح رہے کہ یروشلم کے بارے میں امریکی اعلان کے بعد عرب اور مسلمان ممالک کی درخواست پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 193 رکن ممالک خصوصی ہنگامی اجلاس بلایا گیا تھا۔