.

فرانس: کیا باکسنگ ،فٹ بال اور تن سازی کے کلبوں میں سخت گیر پیدا ہو رہے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں حالیہ برسوں کے دورا ن میں دہشت گردی کے حملوں میں ملوّث بیشتر افراد باکسنگ ، فٹ بال اور تن سازی ( باڈی بلڈنگ) ایسے منظم کھیلوں کا کسی نا کسی شکل میں حصہ رہے تھے ۔ پھر وہ ’’ جہادی ‘‘ ہوگئے اور اس وجہ سے بالخصوص پیرس کے علاقے سے تعلق رکھنے والے کلبوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔

اب اگرچہ فرانس میں دہشت گردی کے حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود کلب اپنے عملہ کو کھلاڑیوں کے انتہا پسندی اور سخت گیری کی جانب راغب ہونے کے رجحان کا سراغ لگانے کی تر بیت دے رہے ہیں اور کھلاڑیوں کے راسخ العقیدہ مسلمان بننے کی راہ میں بھی حائل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک عام مسلمان کے اسلامی تعلیمات کے مطابق طرز عمل کو بھی سخت گیری سے تعبیر کرتے ہیں ۔ فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق لیو نامی ایک نوجوان فٹ بالر میں حال ہی میں تبدیلی رونما ہو تے دیکھی گئی ۔ وہ تربیتی مشق کے لیے قدرے تاخیر سے آتا اور اس نے اپنے انسٹرکٹر کو بتایا کہ وہ کھیل کے لیے آنے سے پہلے نماز ادا کرنے مسجد میں جاتا ہے۔پھر اس نے عورتوں کے ساتھ مصافحے سے بھی انکار کردیا تھا۔

اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پیرس کے جنوب میں واقع نواحی علاقے جینٹلی میں ایل ڈی فرانس کمیٹی کے ہیڈ کوارٹرز میں ایک تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر اس کمیٹی کے علاقائی نائب صدر پیٹرک کرام نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ راسخ العقیدگی ( ریڈیکلائزیشن) سے نمٹنے کے لیے کوئی لچک نہ دکھائیں۔

829 راسخ العقیدہ کھلاڑی

فرانسیسی حکومت کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق فرانس میں اسپورٹس کلبوں کے ستاسی لاکھ رجسٹرڈ اراکین ہیں۔ ان میں 829 افراد کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ نومبر تک ریڈیکل شمار کےی گئے تھے ۔ان میں سے 147 کا تعلق ایل ڈی فرانس سے ہے۔

یہ تعداد اسپورٹس کلبوں کے کل اراکین کے مقابلے میں بہت کم ہے لیکن فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ مارشل آرٹس ، فٹ بال اور تن سازی کے کلب ملک میں عبادت گاہوں کے بعد لوگوں کو راسخ العقیدہ بنانے کی نمبر ون جگہیں ہیں۔

فرانسیسی کلب کھیلوں کے روایتی نظم وضبط کی پاسداری نہ کرنے والوں کو بھی مبینہ طور پر راسخ العقیدہ قرار دیتے ہیں اور ان مسلمانوں کو کلب سے نکال باہر کرتے ہیں۔پیرس میں جوڈو کے ایک جونیر اسٹار کو محض اس بنا پر کوچنگ کے ایک کورس سے چلتا کیا گیا کہ اس نے ’’ میٹ ( قالین) کو سلام کرنے سے انکار کردیا تھا اور یہ کہا تھا کہ وہ عورتوں سے ہم کلام نہیں ہونا چاہتا ہے‘‘۔ کلب کے حکام نے اس کو اپنا یہ طرز عمل تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں ناکام رہے تھے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جینٹلی میں تربیتی ورکشاپ کے مقررین میں سے ایک میڈرک چیپی ٹوکس کا کہنا تھا کہ فرانس میں پیدا ہونے اور حملے کرنے والے دہشت گرد کھیلوں کے کلبوں میں عام آتے جاتے رہتے تھے اور ان میں سے متعدد کے آپس میں بھی ایک دوسرے سے مراسم استوار تھے۔

ایک اور مقرر کا کہنا تھا کہ ’’ بے روز گار نوجوان منشیات کے اسمگلروں یا مسلم بنیاد پرستوں کے جھانسے میں آجاتے ہیں۔ان میں سے متعدد عراق اور شام گئے تھے اور دو اس وقت دہشت گردی کے ایک حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں قید کاٹ رہے ہیں‘‘۔