.

مقتول علی صالح کے 19 قریبی عزیز سعودی عرب کے راستے اومان روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے یمن مقتول سابق صدر علی عبداللہ صالح کے نقل مکانی کرنے والے 19 قریبی رشتہ داروں کو مملکت سے گذر کر بہ حفاظت سلطنت اومان جانے کی اجازت دے دی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ تمام افراد چار دسمبر کو علی عبداللہ صالح کے قتل کے بعد صنعاء سے نکل آئے تھے۔ تاہم حوثیوں باغیوں نے علی صالح کی بیوہ رقیہ الحجری المعروف ام الایتمام اور ان کے بھائی احمد الحجری کو حراست میں لے رکھا ہے۔

علی صالح کے خاندان کے افراد کی صنعاء سے سعودی عرب اور وہاں سے سلطنت اومان منتقلی کے عمل میں عرب اتحاد نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ نقل مکانی کرنے والوں میں علی صالح کے قریبی رشتہ داروں کے علاوہ ان کی جماعت پیپلز کانگریس کے بعض سرکردہ ارکان بھی شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو سعودی عرب کے راستے سلطنت اومان جانے والے علی صالح کے مقربین کی فہرست موصول ہوئی ہے جس کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں کی شناخت فاطمة محمد عبدالله الحضرمی، محمد عبداللہ کی بیٹی فاطمة محمدعبدالله القوسی، خلود محمد صالح الاحمر، أصمهيت محمد محمد صالح، خلود محمد محمد صالح ۔محمد عبدالله القوسي، فاء وليد محمد الدعيس، سلمى محمد عبدالله القوسی، عصمت محمد عبدالله صالح، لمار محمد محمد صالح، أمة الملك محمد عبدالله القوسی، شہزادی إسماعيل أحمد الأرحبی، صباح علي ناجی القوسی، شهد محمد مقبل القوسی، شذى محمد مقبل القوسی ،شيماء محمد مقبل القوسی، سمية محمد عبدالله القوسي ، أحمد أحمد علي الأكوع اور أمة السلام عبدالله احمد الحجری کے ناموں سے کی گئی ہے۔