.

آسٹریلیا : القُدس پر بات نہ کرنے پر مسجد میں نمازی کی پٹائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آسٹریلیا میں اسلامک سوسائٹی کے سربراہ احمد عید زریقہ نے جمعے کی شب سوسائٹی کی مسجد میں پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ واقعے میں ایک نامعلوم آسٹریلوی شہری نے مسجد "عمر بن الخطاب" میں عشاء کی نماز کے بعد داخل ہو کر ایک نمازی کے ساتھ عرب اسرائیلی تنازع اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے موضوع پر گفتگو شروع کر دی۔

آسٹریلیا ہجرت کے بعد 13 برس سے وہاں مقیم زریقہ نے اتوار کے روز العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ نمازی نے مذکورہ نامعلوم شخص کے ساتھ اس موضوع پر بات چیت کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اس پر اُس شخص نے نمازی کے مُنہ پر زور دار مکُا مار کر اُس کی ناک توڑ دی۔

زریقہ کا تعلق شمالی لبنان کے قصبے المنیہ سے ہے جو دارالحکومت بیروت سے 80 کلومیٹر سے زیادہ کی دوری پر واقع ہے۔ وہ ایک آسٹریلوی کمپنی میں ٹیلی کمیونی کیشن انجینئر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ زریقہ کے مطابق نامعلوم شخص کے ہاتھوں زخمی ہونے والا نوجوان بھی آسٹریلوی باشندہ ہے جس نے 10 برس قبل اسلام قبول کیا تھا۔

وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نامعلوم شخص اچانک مسجد میں پہنچا اور وہاں موجود دو افراد کی جانب بڑھا۔ ان دو میں سے ایک شخص تو فوری طور پر وہاں سے دُور چلا گیا تاہم دوسرا اپنی جگہ پر رہا۔ نامعلوم شخص نے اس نمازی پر سوالات کی بارش کر دی تاہم نمازی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس پر سوال پوچھنے والا شخص چراغ پا ہو گیا اور اس نے چلّاتے ہوئے کہا کہ "تمہارا اس حوالے سے کوئی موقف تو ہونا چاہیّے"۔ اس کے بعد ایک زور دار مُکّا مار کر نمازی کی ناک توڑ دی جس سے خون بہنے لگا۔ حملہ آور دوسرا مکا مارنے والا تھا مگر اچانک وہاں سے فرار ہو گیا۔

مذکورہ اسلامک سوسائٹی 1955 میں ایڈیلیڈ میں قائم ہوئی۔ یہ آسٹریلیا کی سب سے پرانی اسلامی سوسائٹی ہے۔ سوسائٹی کے سربراہ زریقہ کے مطابق مسجد کے اندر سیکیورٹی کیمرے کی وڈیو پولیس کے حوالے کر دی گئی ہے۔ امید ہے کہ اس کے ذریعے "نفرت پر مبنی" اس جرم کے مرتکب شخص کی شناخت کر لی جائے گی۔