.

ایران نے جوہری معاہدے کی 8 شِقوں کی خلاف ورزی کی: امریکی کانگریس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کے 24 ارکان نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران نہ صرف جوہری معاہدے کی روح پامال کرنے کا مرتکب ہوا ہے بلکہ اس نے معاہدے کے متن کی کم از کم آٹھ شقوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ یہ بات مذکورہ ارکان کی جانب سے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن ، وزیر دفاع جیمز میٹس اور امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو کو لکھے گئے ایک خط میں کہی گئی۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے ان 8 خلاف ورزیوں کے حوالے سے تحقیقات کر کے ان کا جواب دیا جائے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے 13 اکتوبر 2017 کو مناسب طور پر اعلان کیا کہ وہ جوہری معاہدے پر ایران کے کاربند رہنے کی توثیق نہیں کریں گے۔

ارکان کانگریس کے مطابق ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی نے فروری 2016 اور نومبر 2016 میں ایران کی جانب سے دو خلاف ورزیوں کا اقرار کیا تھا۔ فروری 2016 میں ایجنسی نے بتایا تھا کہ ایران کے بھاری پانی کے ذخیرے کا حجم 130.9 میٹرک ٹن پہنچ گیا۔ اس طرح یہ حجم معاہدے کی رُو سے متفّقہ 130 میٹرک ٹن کے حجم سے تجاوز کر گیا۔

خط کے متن کے مطابق بھاری پانی کی تیاری میں زیادتی کے حوالے سے ایران کی دوسری خلاف ورزی کے بعد معاہدے کی نگرانی پر مامور مشترکہ کمیٹی نے ایران کو 11 میٹرک ٹن بھاری پانی کی مقدار سلطنت عمان میں ذخیرہ کرنے کی اجازت دے تا کہ اس دوران خریدار کا انتظار کیا جا سکے۔ تاہم کمیٹی نے ایران کے اس مواد کو ذخیرہ کرنے کے بنیادی سبب سے نمٹنے کی کوشش نہیں کی۔

ارکان کانگریس نے جن دیگر خلاف ورزیوں کی جانب اشارہ کیا ہے ان میں یہ بھی ہے کہ ایران نے یورینیئم کی افزودگی کے واسطے جدید سینٹری فیوجز کو مطلوبہ مقدار سے زیادہ حاصل کیا۔

ایرانی نظام نے کاربن فائبر حاصل کرنے کی بھی کوشش کی جو سینٹری فیوجز کی تیاری کے سلسلے میں بنیادی عنصر ہے۔ اس کے علاوہ تہران نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کی پارشین جیسی حساس عسکری تنصیبات تک رسائی سے انکار کر دیا۔

تہران نے ایجسنی کی طرف سے جامعہ شریف کے دورے کا مطالبہ بھی مسترد کر دیا جہاں ایرانی نظام نے غیر اعلانیہ عسکری جوہری سرگرمیاں انجام دیں۔ آخرکار ایجنسی نے ان سرگرمیوں کے حوالے سے ایرانی تفصیلات پر ہی اکتفا کر لیا۔

خط پر دستخط کرنے والے ارکان کانگریس نے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں حساس نوعیت کی سرگرمیوں کی تحقیقات کی جائیں۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو نے کچھ عرصہ قبل بتایا تھا کہ ایجنسی چاہتی ہے کہ ایران جامع ورکنگ پروگرام پر پوری طرح عمل درامد کرے۔ اس میں شِقT" " بھی شامل ہے جو کسی بھی ایسی سرگرمی کو ممنوع قرار دیتی ہے جو کسی جوہری دھماکا خیز آلے کی تیاری میں کردار ادا کر سکے۔

ارکان کانگریس نے وزارت دفاع ، وزارت خارجہ اور مرکزی انٹیلجنس ایجنسی CIA سے مطالبہ کیا ہے کہ ان خلاف ورزیوں کی تصدیق کی جائے اور اس حوالے سے ہر قسم کی معلومات کانگریس کو فراہم کی جائے۔