.

برطانوی خاتون شہری کو جلد مشروط طور پر رہا کیا جاسکتا ہے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی عدلیہ کے ترجمان غلام حسین محسنی اعجئی نے کہا ہے کہ جیل میں قید برطانوی ایرانی شہری نازنین زغری ریٹکلف کو آیندہ ماہ ایک تہائی سزا پوری ہونے کے بعد مشروط طور پر رہا کیا جاسکتا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی ایسنا کے مطابق محسنی اعجئی نے ایک قانون کا حوالہ دیا ہے جس کے تحت دس سال سے کم مدت کے قیدی کو ایک تہائی سزا پوری ہونے پر مشروط طور پر رہا کیا جاسکتا ہے۔

نازنین زغری ریٹکلف کو سپاہِ پاسداران انقلاب نے اپریل 2016ء میں تہران کے ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا۔عدالت نے انھیں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی تھی۔ان کی ایک تہائی سزا جنوری 2018ء میں پوری ہوگی۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف ایک اور کیس زیر التوا ہے۔اس کیس میں پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے عاید کردہ نئے الزامات پر اس خاتون کو مزید سولہ سال تک قید کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تھامسن رائیٹرز فاؤنڈیشن کی سابق پراجیکٹ مینجر نازنین زغری ریٹکلف اس وقت تہران کی ایوین جیل میں پانچ سال قید کی سزا بھگت رہی ہیں۔ان پر ایران کے مذہبی علماء کی انتظامیہ کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی لیکن اس الزام کی ان کے خاندان اور تھامسن رائیٹرز فاؤنڈیشن نے تردید کی تھی۔یہ تھامسن رائیٹرز سے آزاد خیراتی تنظیم ہے اور رائیٹرز نیوز سے بھی آزادانہ طور پر کام کرتی ہے۔

ان پر ایسی تنظیموں میں شمولیت اور ان سے رقوم وصول کرنے کے الزامات بھی عاید کیے گئے تھے جو استغاثہ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کام کررہی تھیں۔ ان پر لندن میں ایرانی سفارت خانے کے باہر ایک مظاہرے میں حصہ لینے کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ نازنین ریٹکلف لندن میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے لیے بھی کام کرتی رہی ہیں۔ایرانی حکام بی بی سی پر بھی ایرانی ملّائیت کے نظام کا تختہ الٹنے کے الزامات عاید کر چکے ہیں۔ ایران دُہری شہریت کو تسلیم نہیں کرتا ہے ۔اس لیے ایسے ایرانیوں کو گرفتاری کی صورت میں قونصلر رسائی نہیں دی جاتی ہے اور وہ سالہا سال جیلوں ہی میں سڑتے رہتے ہیں۔