.

حوثی ملیشیا کے بچے فوجی کی جذباتی ویڈیو ، زارو قطار روتا رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی باغی کم سن بچوں کو بھی جنگ کا ایندھن بنا رہے ہیں اور وہ سرکاری فوج کے خلاف لڑائی میں اپنے جنگجوؤں کی تعداد کم پڑجانے کے بعد چودہ، پندرہ سال تک کی عمر کے لڑکوں کو لڑائی کے لیے بھرتی کررہے ہیں۔ان بد قسمت بچوں کی عمر تو اسکول جانے کی ہے لیکن حوثی باغیوں نے انھیں جنگ میں جھونک دیا ہے۔

ایسے ہی ایک کم سن بچے کو یمنی فوج نے ایک جھڑپ کے دوران میں پکڑا ہے اور اس کا انٹرویو ریکارڈ کیا ہے۔اس کی جذبات سے لبریز ویڈیو میں وہ بول کے نہیں دے رہا اور مسل؛سل روئے جارہا ہے۔

یہ انٹرویو مشرقِ وسطیٰ جمہوریت منصوبے کے سینیرفیلو اور یمنی تنازعے کے ایک ماہر ندوہ الدوسری نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کیا ہے۔

انٹرویو کے دوران میں یہ لڑکا مسلسل زارو قطار رو رہا ہے اور اس سے بولا بھی نہیں جارہا ہے۔جب اس سے یہ پوچھا گیا کہ وہ اپنے ہم عمر بیسو ں لڑکوں کے بارے میں کیا کہے گا، جنھیں حوثیوں نے ورغلا کر لڑائی کے لیے اپنی صفوں میں بھرتی کر لیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں وہ لڑکا روتا رہا اور اس نے کیمرے سے بھی مُنھ پھیر لیا۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اس سال کے اوائل میں انکشاف کیا تھا کہ حوثی مسلح گرو پ پندرہ سال کی عمر تک کے لڑکوں کو لڑائی کے لیے بھرتی کررہا ہے اور ان بچہ فوجیوں کو سرکاری فوج کے خلاف محاذ جنگ پر بھیج رہا ہے۔