.

حوثیوں نے علی صالح کے وفاداروں کے لیے نیا عقوبت خانہ قائم کردیا

مقتول صدرکے رشتہ داروں اور دیگرحامیوں کے گھروں کا صفایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے فراہم کی جانے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ ایران نواز حوثی باغیوں نے مقتول سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفاداروں کو اذیتیں دینے کے لیے صنعاء میں ایک نیا قید خانہ قائم کیا ہے۔ اس قید خانے میں علی صالح کے مقربین کو ڈالا جا رہا ہے۔

یمن میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے ’سام‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حوثی باغی صنعاء کی مساجد اور جامعات اور دیگر حراستی مراکز کو قید خانوں میں تبدیل کرنا شروع کر رکھا ہے۔ مثال کے طور پر قاع القیضی کے مقام پر واقع مسجد خذیفہ اور جنوبی صنعاء میں حزیز کے مقام پر قائم ’21ستمبر میڈیکل یونیورسٹی‘ پر قبضے کے بعد انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ صنعاء اور باغیوں کے زیرتسلط علاقوں میں قتل، اغواء، لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور علی صالح سے ہمدردی رکھنے والوں کو ان کو بے گھر کرنے جیسے جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

’سام‘ کو حوثیوں کے ہاتھوں قتل اور زخمی ہونے والے علی صالح کے 160 اقارب کی فہرست ملی ہے۔ انسانی حقوق کے ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں کے حالات کا کوئی پتا نہیں کہ انہیں کہاں اور کس حال میں رکھا گیا ہے تاہم مقتولین جو مغربی صنعاء میں عصر کے مقام پر واقع ایک کولڈ اسٹوریج میں منتقل کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی شدت پسندوں نے علی صالح کی رہائش گاہوں، ان کے قریبی رشتہ داروں اور دیگر وفاداروں کے گھروں، پیپلز کانگریس کے دفاتر میں لوٹ مار کے بعد وہاں سے لوٹا گیا سامان ٹرکوں پر لاد کر حوثیوں کے گھروں اور مراکز منتقل کیا گیا ہے۔