.

کیا سپریم لیڈر سے اختلاف رائے رکھنے والا واجب القتل ہے؟ احمدی نژاد

سابق ایرانی صدر کا سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے بیان پر استفسار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی طرف سے ایرانی رجیم پر تنقید پر متنبہ کرنے کے رد عمل میں استفسار کیا ہے کہ کیا سپریم لیڈر سے اختلاف رائے رکھنا قتل کا موجب بن سکتا ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ درست کہہ رہے ہیں اور اپنی آراء کا اظہار کرتے رہیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق صدر احمدی نژاد نے ان خیالات کا اظہار ایران کے جنوبی شہر بوشھر کے دورے کے دوران ایک سوال کے جواب میں کیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ دوبارہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے حالانکہ سپریم لیڈر نے انہیں ایسا کرنے سے منع کردیا ہے۔ اس کے جواب میں انہوں نے استفسار کیا کہ اگر آپ کا لیڈر کہے کہ مت سوچیں تو کیا آپ اپنے دماغ کو معطل کر دیں گے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ میں احمدی نژاد کے دورہ بوشھر کے دوران ایک اور سوال کا جواب بھی گردش میں ہے۔ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی معاملے میں اگر [سپریم ] لیڈر کہے کہ یہ کام کرنا ہے اور آپ کی رائے ان سے مختلف ہو تو کیا آپ کو قتل کر دیا جائے۔ نہیں بلکہ ہمیں رائے کا اظہار کرنا ہوگا۔

خیال رہے کہ حالیہ ایام میں محمود احمدی نژاد اور جوڈیشل کونسل کے چیئرمین صادق آملی لاریجانی کے درمیان سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات عاید کیے ہیں۔

ان الزامات کے دوران سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی کود پڑے۔ انہوں نے سابق صدر احمدی نژاد کو ترغیب دی کہ وہ اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کے بجائے مثبت تنقید کریں اورالزام تراشی سے گریز کریں۔ سپریم لیڈر نے موجودہ صدر حسن روحانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔