.

’سیف الاسلام کو انتخابات میں حصہ لینے سے کوئی نہیں روک سکتا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں آئندہ برس ہونے والے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں سابق صدر کرنل معمر قذافی کے حامی ایک بار پھر میدان میں ہیں اور وہ مقتول لیڈر کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو انتخابات میں حصہ لینے کا حق دار ٹھہراتے ہوئے ان کی حمایت میں مہمات چلا رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سیف الاسلام اگرچہ اب اپنے ملک میں کسی جیل میں قید تو نہیں تاہم ہیگ میں قائم عالمی فوج داری عدالت میں ماخوذ ہونے کی بناء پر وہ اب بھی ایک متنازع شخصیت ہیں۔

دوسری جانب قذافی کے حامی حلقے سیف الاسلام کی انتخابات میں آمد اور ملکی سیاست میں حصہ لینے کو امن واستحکام کی بحالی کے معنوں میں لیتے ہیں۔

سیف الاسلام کو لیبیا کی جیل سے رہا ہوئے چھ ماہ گذر چکے ہیں مگر وہ بدستور روپوش ہیں۔ ان کے ٹھکانے کے بارے میں درست معلومات موجود نہیں اور نہ ہی ان صحت کے حوالے سے کسی قسم کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ عالمی فوج داری عدالت کو بھی مطلوب ہیں۔ عالمی فوج داری عدالت سیف کی گرفتاری کے احکامات دے چکی ہے۔

اقوام متحدہ کی طرف سے کرنل قذافی کے حامیوں کو پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کا حق دے دیا ہے اور ان کے سیاسی عمل کا حصہ بننے کی حمایت کی ہے۔ مگر اسی جلو میں لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے مندوب غسان سلامہ کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ وہ عالمی عدالت انصاف کو مطلوب ایک اشتہاری [سیف الاسلام] کو لیبیا میں پارلیمانی اور صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اخبار ’الحیاۃ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سیف الاسلام کو اپنے حوالے سے قانونی تنازعات کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کرنل قذافی کا بیٹا جب تک عالمی عدالت کی طرف سے جاری کردہ فیصلوں اور نوٹس پر اپنی پوزیشن واضح نہیں کرتا اس وقت تک اسے لیبیا میں کسی سیاسی عمل کاحصہ بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اقوام متحدہ کے مندوب غسان سلامہ کے بیان کے رد عمل میں لیبیا کے ایک سرکردہ سیاسی رہ نما اور رکن پارلیمنٹ صالح فحیمہ نے کہا کہ سیف الاسلام کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا حیران کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیف الاسلام کو قومی مصالحتی عمل کے تحت رہائی ملی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیف الاسلام لیبیا کا شہری ہے اور اسے ریاستی باشندہ ہونے کے ناطے تمام بنیادی حقوق اور ذمہ داریوں کا حق دار ہے۔ اگر وہ لیبیا میں کسی سیاسی عہدے کے لیے خود کو نامزد کرتا ہے تو انہیں روکنے کا کوئی جواز نہیں ہونا چاہیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے صلاح سلامہ نے کہا کہ لیبیا میں ووٹروں کی کثرت نہ ہونے کے باوجود سیف الاسلام کے حامی ووٹروں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی فوج داری عدالت کی طرف سے سیف الاسلام پر عاید کردہ الزامات انہیں ملکی سیاست میں حصہ لینے میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ لیبیا کا قانون اس حوالے سے خاموش ہے۔ اگر کوئی شخص عالمی عدالت کو مطلوب ہو تو بھی وہ انتخابی مہمات میں حصہ لے سکتا اور امیدوار بن سکتا ہے۔