.

ایران میں حکومت مخالف احتجاج کا دائرہ وسیع، تہران میں گرفتاریاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے وحشیانہ کریک ڈاؤن کے باوجود جمعرات سے شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہرے اب ملک کے دیگر بڑے شہروں تک پھیل گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شمال میں راشت اور مغرب میں کرمانشاہ میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں جبکہ شیراز، اصفہان اور ہمدان میں مظاہرین کی تعداد کم ہے۔ ادھر دارالحکومت تہران میں درجنوں مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

یہ احتجاج شروع تو بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف ہوئے مگر اب احتجاجی مظاہرین حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے مظاہرے کر رہےہیں۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ کرد اکثریتی علاقے کرمانشاہ میں شہریوں نے جیلوں میں قید سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے نعرے لگائے۔

احتجاجی مظاہروں کے دوران روحانی مردہ باد، آمریت مردہ باد اور دیگر حکومت مخالف نعرے لگائے جا رہے ہیں۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ زیادہ شدید احتجاج ہیں اور اس کے ذریعے عوامی بے چینی نظر آ رہی ہے۔

جمعرات کو سب سے بڑا احتجاج مشہد میں دیکھا گیا جہاں 52 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

حکومت کی جانب سے غیرقانونی اجتماع کے خلاف وارننگ جاری ہونے کے باوجود ملک بھر سے سوشل میڈیا پر احتجاج کی کالز دی جا رہی ہیں۔

جبکہ جمعے کو ہونے والے احتجاج کی ویڈیوز جو سوشل میڈیا پر شائع کی گئیں ان میں سکیورٹی فورسز اور بعض مظاہرین کے درمیان کرمانشاہ میں ہونے والی جھڑپیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

ان مظاہروں کا آغاز اس وقت ہوا جب صدر حسن روحانی کی حکومت بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی اور صرف ایک ہی ہفتے میں انڈوں کی قیمتیں دوگنا بڑھ گئیں۔

تاہم بعض مظاہروں کا دائرہ کار بڑھ کر حکومت مخالف احتجاج تک پھیل گیا، اور سیاسی قیدیوں کی رہائی اور پولیس کی جانب سے مار پیٹ کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔

اس دوران مشہد میں ’نہ لبنان، نہ غزہ، میری زندگی ایران کے لیے‘ جیسے نعرے بھی لگائے گئے۔ اس حوالے سے مظاہرین کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی تمام تر توجہ ملکی مسائل کی بجائے خارجہ پالیسی پر مرکوز ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ’مشہد میں اس لیے گرفتاریاں عمل میں آئیں کیونکہ وہ سخت نعرے بازی کر رہے تھے۔‘

مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال کی ترغیب

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق مشہد سے تعلق رکھنے والے ایک سرکردہ مذہبی رہ نما آیت اللہ احمد علم الھدیٰ نے حکومت مخالف نعرے لگانے والے عوام کو طاقت سے کچلنے پر زور دیا ہے۔

ایک بیان میں ایرانی مذہبی رہ نما نے کہا کہ اگر سیکیورٹی ادارے اور قانون نافذ کرنے والی تنظیمیں بد نظمی پھیلانے والوں کو کھلا چھوڑ دیں گے تو ہمارے دشمن اسلام جمہوری نظام کے خلاف انہیں بھرپور استعمال کریں گے۔ ایران کا موجودہ نظام انقلاب کے وجود پر قائم ہے اور ہمیں اسے ہرصورت میں قائم رکھنا ہے۔