.

ایران میں جاری عوامی انتفاضہ حکومت نے سازش قرار دیے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی برسراقتدار حکومت کے خلاف عوامی بیداری تحریک 'انتفاضہ' کا شعلہ تہران کے وسط میں تیسرے روز بھی سلگتا رہا۔ اس سلسلے میں ہفتے کے روز تہران سمیت ملک کے اکثر شہروں اور قصبات میں احتجاجی مظاہرے اور جلوس نکالے گئے۔

حکومت اور ایران کے سپریم لیڈر کے خلاف مظاہروں میں شدت کے بعد حکام نے مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر قانونی مظاہروں میں شرکت کے دوران قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں۔

ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب، حکومت وقت اور مذہبی اتھارٹی تینوں ہی کا خیال ہے کہ ملک میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے 'انقلاب کے خلاف سازش' ہیں، جس کے بعد وہ حکومت مخالفین کو جواب دینے کے لئے اپنے حامیوں کو سڑکوں پر لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تہران میں نکالے گئے احتجاجی جلوس کے شرکاء 'آمر مردہ باد' اور 'نہ غزہ نہ لبنان بلکہ ایران پر میری جان قربان' کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ سوشل میڈیا میں احتجاجی مظاہروں کی ویڈیوز پر مبنی مختصر کلپش میں شرکاء قانون نافذ کرنے والے اور پولیس اہلکاروں سے تصادم کے بعد یہ نعرہ لگاتے دیکھے جا سکتے ہیں کہ 'شام سے نکلو، ہمارے بارے میں سوچو'۔

احتجاجی مظاہروں کا یہ شعلہ دراصل ایران کے تیسرے بڑے شہر اصفہان سے بھڑکا، جہاں ہفتے کے روز بھی حکومت مخالف جلوس نکالے گئے جس میں شرکاء نے سیکیورٹی اہلکاروں سے اپیل کی کہ وہ ان کے مظاہرے کچلنے کے طاقت کا استعمال کرنے کے لئے ان کی مدد کریں۔

سوشل میڈیا پر سرگرم حکومت مخالف رضاکاروں نے ایرانی دارلحکومت سے نکلنے والے مظاہروں کی ویڈیو کلپس پوسٹ کیں ہیں جن میں تہران کے وسطی علاقے شاہراہ انقلاب پرمظاہرین 'اے غیور ایرانیوں ۔۔۔ مدد کرو، مدد کرو' کے نعرے لگاتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب ساٗٹس پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلوا پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد تہران کے مختلف علاقوں میں پوسٹ ہیں۔

ایرانی حکومت نے ہفتے کی صبح ملک کے مختلف شہروں میں حکومت کی حمایت میں جلوس نکلوائے۔ یاد رہے کہ 30 دسمبر 2009ء کو ایرانی حکومت نے ایسے ہی جلوس نکلوا کر اس وقت کی حکومت مخالف سبز تحریک کو کچلنے کی کوشش کی تھی۔

ادھر کئی درجن ایرانی طلبہ تہران یونیورسٹی کے داخلی دروازے پر جمع ہوئے 'اصلاح پسندوں اور بنیاد پرستوں کا کھیل ختم' کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔ ٹیلی گرام چینل سمیت سوشل میڈیا کے متعدد پلیٹ فارمز پر تہران کے جنوبی شہر کرج میں نکالے جانے والے جلوسوں کی براہ راست کوریج جاری ہے۔

سوشل میڈیا پر دیکھی جانے والے چند دوسری ویڈیوز میں یہ مظاہرے تہران کے علاقے شھرکرد میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں جہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم بھی ہوا۔ نیز کرمانشاہ غربا شہر سے بھی ایسے مظاہروں کی اطلاعات ہیں جہاں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے اشک آور گیس استعمال کی۔

ایرانی وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے شہریوں سے ان مظاہروں میں عدم شرکت کی اپیل کرتے ہوئے ان مظاہروں کو 'غیر قانونی' قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور عدلیہ کی کوشش ہے کہ ان مظاہروں کو باعث تشویش نہ بنایا جائے۔