.

ایران میں انتفاضہ جاری، آج اتوار کو70 شہروں میں احتجاج کی کال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں گذشتہ جمعرات کو شمال مشرقی شہر مشہد سے شروع ہونے والا حکومت مخالف احتجاج پورے ملک میں پھیل گیا ہے۔ مظاہرین آج اتوار کو ملک کے 70 سے زاید شہروں میں احتجاجی مظاہروں کی تیاری کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کل ہفتے کو بھی ایران کے دسیوں شہروں میں حکومت کے خلاف جلوس اور ریلیاں نکالی گئیں۔ سوشل میڈیا پر ایرانی انتفاضہ کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔ شہری سوشل میڈیا کے ذریعے احتجاجی مظاہروں کی جگہوں اور اوقات کااعلان کررہے ہیں۔

جمعرات کے روز ایران کے تین شہروں میں بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج شروع ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ احتجاج حکومت کی کرپشن، ظالمانہ نظام، غربت مسلط کرنے کے خلاف شروع ہوگیا۔ احتجاج کا دائرہ پھیل کر دوسرے مرحلے میں پندرہ شہروں تک جا پہنچا۔ تیسرے مرحلے میں 30 شہروں میں احتجاجی جلوس نکالے گئے جب کہ آج ملک کے ستر سے زاید شہروں میں احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

گذشتہ روز ایران کے بڑے شہروں کرمانشاہ، شہرکورد، بندرعباسم ایذج، اراک، زنجان، ابھرم درود، خرم آباد، الاھواز، کرج، تنکابن اور دوسرے شہروں میں احتاج جلوس نکالے گئے۔

پرامن مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایرانی پولیس نے مظاہرین پر طاقت کا استعمال جاری رکھا ہوا ہے جس کے نتیجے میں ضلع لورستان مں دورود کے مقام پر چار مظاہرین جاں بحق اور دسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

ایران میں جاری عوامی احتجاج پر حکومتی حلقوں اور ایرانی رجیم کی حامی شخصیات اور اداروں کی طرف سے سخت مخالفت کی جا رہی ہے۔

تہران کے سیکیورٹی امور کے معاون محسن ھمدانی کا کہنا ہےکہ ملک میں جاری مظاہرے غیرقانونی ہیں۔ حکومت داخلی سلامتی کے اداروں کے ساتھ مل کر مظاہروں کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرےگی۔

پاسداران انقلاب کی مقرب نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق احتجاج اقتصادی مطالبات پر شروع ہوا تھا مگر اب مظاہرین کے مطالبات تبدیل ہوچکے ہیں۔ تسنیم کے مطابق آج کے احتجاج میں تقریبا وہی مطالبات کیے جا رہےہیں جو سنہ 2009ء میں سبز انقلاب تحریک کے دوران کیے جا رہے تھے۔

طلباء بھی سراپا احتجاج

خبر رساں ادارے’ایسنا‘ کے مطابق ایران میں حکومت کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں میں جامعات کے طلباء بھی شامل ہوگئے ہیں۔

گذشتہ روز جامعہ تہران کے سیکڑوں طلباء نے سڑکوں پر نکل کر حکومت اور اس کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔

طلباء نے ’اصلاح پسندوں اور بنیاد پرستوں کے درمیان گیم ختم‘ عوام کا استحصال نا منظور اور آمریت مردہ باد جیسے نعرے لگائے۔

طلباء نے تہران میں یونیورسٹی روڈ پر کوڑے کرکٹ کو آگ لگا کر اور پتھر پھینک کر بلاک کردی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرے معاشی مطالبات پر شروع ہوئے تھے مگر اب احتجاج ایک منظم سازش میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔