.

ایرانی مظاہرین کے نزدیک شام میں مداخلت اُن کی معیشت کے بگاڑ کا سبب ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے بڑے شہروں میں وسیع پیمانے پر ایرانی نظام کے خلاف عوام کی احتجاجی تحریک جاری ہے۔ اس دوران مظاہرین نے شام کے بحران میں تہران کی سرگرمی کو اپنے ملک کی معشیت کے بگاڑ کا ایک سبب قرار دیا۔

شام میں ایرانی مداخلت کے نتیجے میں سَر پر آنے والے اخراجات کے حوالے سے سب سے پہلا انکشاف انٹیلی جنس معلومات کے اِفشاء ہونے سے سامنے آیا جن کو ایرانی اپوزیشن تنظیم "مجاہدین خلق" نے 2016 کے اواخر میں نشر کیا تھا۔

گزشتہ سال کے اختتام پر شام میں ایرانی اور ایران کی حمایت یافتہ فورسز کی تعداد 70 ہزار تک پہنچ گئی۔ ان میں تقریبا 15 ہزار کا تعلق پاسداران انقلاب یا ایرانی فوج سے ہے جب کہ بقیہ تعداد ملیشیاؤں کے ارکان اور رضا کاروں کی ہے۔

ایرانی اپوزیشن کی جانب سے اِفشاء معلومات کے مطابق شام میں ایرانی پاسداران انقلاب اور عراقی اور افغان ملیشیاؤں کے مارے جانے والے ارکان کی تعداد 3 ہزار ہو چکی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے زیادہ تر ارکان حلب میں ہلاک ہوئے۔ شامی بحران کے آغاز سے اب تک ایران نواز مسلح جماعتوں کے ارکان کی ہلاکتوں کی تعداد 9 ہزار کے قریب ہے۔

جہاں تک شام میں ایرانی اخراجات کا تعلق ہے تو اقوام متحدہ کے غالب گمان کے مطابق یہ رقم سالانہ 6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

یاد رہے کہ تہران حکومت ملک میں غیر ملکی ملیشیاؤں کے تمام جنگجوؤں کی تنخواہیں ادا کرنے کی ذمّے دار ہے، ان ملیشیاؤں کی تعداد پچاس کے قریب ہے۔