.

ایران میں تبدیلی کا وقت آ گیا : امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں اب تبدیلی کا وقت آ گیا ہے اور اس ملک کے عوام ’’ آزادی کے بھوکے ‘‘ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے سوموار کو ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’ ایران سابق اوباما انتظامیہ کے ساتھ خوف ناک جوہری معاہدے کے باوجود ہر سطح پر ناکام ہورہا ہے‘‘۔ وہ اپنے پیش رو ڈیمو کریٹک صدر براک اوباما کے دور حکومت میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کا حوالہ دے رہے تھے۔

انھوں نے ٹویٹر پر مزید لکھا:’’ عظیم ایرانی عوام گذشتہ کئی برسوں سے جبر واستبداد کا سامنا کررہے ہیں۔ وہ خوراک ، آزادی اور انسانی حقوق کے بھوکے ہیں۔ایران کی دولت لوٹی جارہی ہے۔اب تبدیلی کا وقت آگیا ہے‘‘۔

ایران میں گذشتہ ہفتے حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے آغاز کے بعد سے امریکی صدر بڑھ چڑھ ایرانی عوام کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں۔

انھوں نے گذشتہ سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اپنی تقریر کو دوبارہ پوسٹ کیا ہے اور اس تقریر میں سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں:’’ جابر نظام ہمیشہ کے لیے اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے۔وہ دن ضرور آئے گا جب ایرانی عوام کو اپنے انتخاب کا حق حاصل ہو جائے گا‘‘۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر کے ان بیانات کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔انھوں نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس میں کہا:’’ آج ہمارے عوام سے ہمدردی جتلانے کا خواہاں امریکا میں موجود شخص یہ بھول گیا ہے کہ اس نے ماضی میں ایرانی قوم کو دہشت گرد قرار دیا تھا‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ ’’ اس شخص کا تمام وجود ہی ایرانی قوم کے خلاف ہے۔اس کو ایران کے عوام کے لیے افسردہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران میں بارہ افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے لیکن اس نے ان ہلاکتوں کی مزید وضاحت نہیں کی۔ایرانی پارلیمان کے ایک رکن نے سوموار کے روز میڈیا کو بتایا کہ ان میں دو مظاہرین جنوب مغرب میں واقع ایک چھوٹے قصبے ایذہ میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔

ایرانی حکومت نے قبل ازیں یہ اطلاع دی تھی کہ اس نے گذشتہ چار روز کے دوران میں 370 سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ایرانی کارکنان نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میں پکڑے جانے والے افراد کی تعدداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔