.

ایران :مسلسل چھٹی رات احتجاجی مظاہرے ، پولیس سے جھڑپیں ، 450 گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دارالحکومت تہران اور دوسرے شہروں میں رات کے وقت احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور منگل کی شب شمال مغربی شہر مشہد اور جنوبی شہر شیراز میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

ایرانی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق سورج ڈھلتے ہی مظاہرین جامعہ تہران میں حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے اکٹھے ہونا شروع ہوگئے تھے۔پولیس نے طلبہ کو کیمپس کے اہم چوراہوں پر احتجاج کے لیے جمع ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔طلبہ مظاہرین نے آج بھی ’’ مرگ بر آمر‘‘ کے نعرے بلند کیے ہیں۔وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو آمر قرار دیتے ہیں۔

ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد میں گذشتہ جمعرات کو ملک میں بے روزگاری اور ابتر معاشی حالات کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے اور یہ دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے دوسرے چھوٹے ،بڑے شہروں اور قصبوں تک پھیل گئے ہیں۔

بعض شہروں میں احتجاجی مظاہروں نے تشدد کا رُخ اختیار کرلیا ہے اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں بیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق وسطی صوبے اصفہان میں واقع شہر قہدریجان میں چھے افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔سرکاری ٹی وی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ قہدریجان میں مظاہرین نے ایک پولیس اسٹیشن پر دھاوا بولنے اور وہاں سے بندوقیں لوٹنے کی کوشش کی تھی ۔

اسی صوبے میں واقع خمینی شہر میں احتجاجی مظاہرے کے دوران جھڑپ میں دو افراد مارے گئے ہیں۔ ان میں ایک 11 سال کی عمر کا لڑکا تھا اور دوسرے کی عمر 20 سال بتائی گئی ہے۔نجف آباد میں سوموار کے روز باسیج ملیشیا کا ایک اہلکار اور ایک پولیس افسر مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوگیا تھا۔

دریں اثناء تہران کی مقامی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدہ دار علی اصغر نصر بخت نے مقامی میڈیا کو بتایا ہے کہ دارالحکومت میں گذشتہ تین روز میں 450 سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔انھوں نے ایلنا نیوز کو بتایا ہے کہ ہفتے کے روز 200 ، اتوار کو 150 اور سوموار کو قریباً 100 افراد کو مظاہروں میں حصہ لینے پر گرفتار کیا گیا ہے۔

ایران کے دوسرے شہروں میں بھی مظاہرین کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے ۔ تاہم گرفتار افراد کی تعداد کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں ۔ایرانی حزب اختلاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار مظاہرین کی تعداد سیکڑوں میں ہے جبکہ ایرانی حکام گرفتاریوں کے حوالے سے میڈیا کو درست معلومات فراہم نہیں کررہے ہیں۔