.

ایران میں عوامی مظاہروں پر یورپی یونین کا پہلا تبصرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی عوام کی حالیہ احتجاجی تحریک پر اپنے پہلے تبصرے میں یورپی یونین نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ "تہران مظاہروں کے حق کو یقینی بنائے گا"۔

ایران میں عوام کی جانب سے حکومتی نظام کے خلاف مظاہرے آج چھٹے روز میں داخل ہو چکے ہیں۔

یورپی یونین کی وزیر خارجہ کی ترجمان فیڈریکا موگرینی نے بتایا کہ "ہم نے گزشتہ چند روز کے دوران ایرانی شہریوں کی جانب سے کیے جانے والے مظاہروں کا بغور جائزہ لیا اور اس دوران ہم ایرانی حکام کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ صدر روحانی کے اعلانیہ بیان کے بعد پر امن مظاہروں اور آزادیِ اظہار کے حق کو یقینی بنایا جائے گا"۔

ایران میں جمعرات کے روز سے ملک کی کمزور اقتصادی حالت اور صدر حسن روحانی کی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق اس دوران کم از کم 20 افراد ہلاک اور سیکڑوں گرفتار ہو چکے ہیں۔

سال 2009 میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کے دوبارہ انتخاب کے خلاف اٹھنے والی احتجاجی تحریک کے بعد ملک میں یہ سب سے بڑے مظاہرے ہیں۔

اس سے قبل روحانی نے پرتشدد کارروائیوں اور املاک عامہ کی بربادی کے عمل کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا تھا کہ ایک ایسی جگہ کی فراہمی کو یقینی بنائے جانے کی ضرورت ہے جہاں انقلاب کے حامی اور عوام روزانہ کی بنیاد پر اپنی تشویش اور تحفظات کا اظہار کر سکیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ ایران میں "تبدیلی کا وقت" آن پہنچا ہے۔ اس سے قبل وہ باور کرا چکے تھے کہ کریک ڈاؤن کی پالیسی پر کاربند نظام کا سلسلہ ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتا۔