.

ایرانی عوام کو آزادی کی جنگ میں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں: یمنی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ عبدالملک ا لمخلافی نے کہا ہے کہ ایران میں مزاحمتی تحریک ایرانی عوام کی خطے کے دوسرے لوگوں کی طرح امن اور خوش حالی کے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہش کی مظہر ہے ۔وہ ملّائیت کے رجیم کی انقلاب برآمد کرنے اور خطے کو تباہی اور بربادی سے دوچار کرنے کے خوابوں کے حامی نہیں ہیں۔

المخلافی نے منگل کے روز ٹویٹر پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ملّاؤں نے خطے میں اپنی بالادستی کی خواہشات کی تکمیل کے لیے جو کچھ خرچ کیا ہے ،اس کے ایرانیوں اور ان کی زندگیوں پر براہ راست اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ان کا معیار ِ زندگی گر کر رہ گیا ہے۔

انھوں نے دنیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کم زور اور مقہور ایرانی عوام کی آواز پر کان دھرے۔انھوں نے ملّاؤں کے زیر تسلط ایرانیوں کو خطے میں سب سے زیادہ پسے ہوئے قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان ممالک کے عوام سے بھی پیچھے ہیں جہاں ایرانی رجیم نے مداخلت کی اور فرقہ ورانہ جنگیں مسلط کی ہیں۔

یمنی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام کو ناانصافیوں کے بوجھ سے نجات دلائی جانی چاہیے۔انھوں نے نشان دہی کی ہے کہ ایرانی رجیم 1982ء سے یمن کے داخلی امور میں مداخلت کرتا چلا آرہا ہے۔انھوں نے ایرانی رجیم پر یمن میں متعدد جنگوں کی آگ بھڑکانے کا الزام عاید کیا ہے۔اب وہ یمن میں جاری جنگ میں حوثی شیعہ باغیوں کی حمایت کررہا ہے۔

انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ ایرانی عوام کی آزادی کے حصول اور غیرملکی مہمات کو رکوانے کے لیے امنگیں کامیابی سے ہم کنار ہوں۔

ایرانی ادارہ برائے تحقیق جرائم نے گذشتہ روز ہی سپاہ پاسداران انقلاب ایران کے ان چار فوجی کمانڈروں کے ناموں کا انکشاف کیا ہے جو یمن میں حوثی ملیشیا کے ساتھ مل کر سرکاری فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایران کی وزارت دفاع نے 2017ء کے اوائل میں ہتھیاروں کے ماہرین کی ایک ٹیم کو یمن میں حوثیوں کی مدد کے لیے بھیجا تھا۔

یمنی وزیر خارجہ نے اس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاسداران انقلاب کے تین سینیر کمانڈروں کو یمن میں حوثی ملیشیا کی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ان ایرانی کمانڈروں کے نام کرنل رضا باسینی ، کمانڈر علی الرجبی اور میجر محمد نیاز ی ہیں۔ ایران نے بہرام رہ نما کی سرکردگی میں حوثیوں کو ہتھیاروں کی تیاری میں مدد دینے کے لیے اسلحہ ماہرین ایک ٹیم بھی گذشتہ سال یمن بھیجی تھی۔