.

’’اللہ ہماری مدد کرے‘‘: ایرانی رجیم کے اجلاس میں سراسیمگی کا منظر

’’امریکا اور مغرب ’منافقین‘ کی حمایت میں متحد ہوچکے ہیں،مریم رجوی کو رجیم کی تبدیلی کی امید ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں جاری پُر تشدد احتجاجی مظاہروں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ، ملک کی سیاسی قیادت اور سکیورٹی اداروں کے سربراہان کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے اور ان کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں افراتفری اور سراسیمگی کا سماں دیکھنے میں آیا ہے۔

اس بات کا انکشاف فاکس نیوز نے ایک رپورٹ میں کیا ہے۔اس میں 31 دسمبر تک ایرانی قیادت کے اجلاسوں کی تفصیل افشا کی گئی ہے۔اس کے مطابق سکیورٹی اداروں کے سربراہوں کا کہنا تھا کہ ملک گیر احتجاجی مظاہروں سے معیشت کا ہر شعبہ متاثر ہوا ہے اور اس سے رجیم کی سلامتی کے لیے بھی خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

اجلاسوں کی کارروائی کی تفصیل فارسی زبان سے انگریزی میں ترجمہ کی گئی ہے اور یہ تفصیل ایرانی رجیم کے ایک اعلیٰ سطح کے ذریعے نے قومی کونسل برائے مزاحمت ایران ( این سی آر آئی ) کو فراہم کی ہے۔

ایک اجلاس میں کہا گیا:’’ مذہبی قائدین اور قیادت کو جلد سے جلد منظرنامے پر آنا چاہیے اور صورت حال کو مزید خراب ہونے سے بچانا چاہیے۔ اللہ ہماری مدد کرے ۔یہ بہت ہی پیچیدہ صورت حال ہے اور یہ سابقہ مواقع سے بالکل مختلف ہے‘‘۔

اس میں مزید کہا گیا کہ ’’ تہران میں آج لوگ خامنہ ای کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اور گذشتہ روز بھی تمام تر نعرے بازی ان کے خلاف ہی کی گئی تھی‘‘۔

فاکس نیوز کے مطابق اجلاس کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’’سپاہ پاسداران انقلاب کا انٹیلی جنس ڈویژن صورت حال کی نگرانی کررہا ہے اور مظاہروں کو رکوانے کے لیے تمام ادارے آپس میں رابطے میں ہیں‘‘۔

ان نوٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران لگائے جانے والے نعروں سے ایرانی رجیم آگاہ ہے اور ان میں خاص طور پر ’’ مرگ بر آمر‘‘ اور ’’ لیڈر خدا کی طرح رہ رہے ہیں اور عوام بھکاریوں کی طرح ‘‘ کے نعروں کا حوالہ دیا گیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ابھی تک ’’ ریڈ الرٹ‘‘ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے کیونکہ اس کے بعد احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے فوج کو براہ راست مداخلت کرنا پڑے گی۔اس لیے بعض ایرانی لیڈروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پاسداران انقلاب یا باسیج فورسز کو طلب کرنے سے صورت حال مزید خراب ہوسکتی ہے اور مظاہرے شدت اختیار کرسکتے ہیں۔

ان نوٹس میں قومی کونسل برائے مزاحمت ایران کی جلا وطن لیڈر مریم رجوی اور ’’ کافروں‘‘ کا حوالہ دیا ہے جو ایرانی قیادت کے بہ قول پہلی مرتبہ متحد ہیں۔ یہاں کافروں سے مراد اہل مغرب ہیں۔ان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’مریم رجوی کو رجیم کی تبدیلی کی امید ہے،مظاہرے یقینی طور پر منظم ہیں‘‘۔اس کے علاوہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرے امریکی حکام کی جانب سے مظاہروں کی حمایت کا بھی رپورٹ میں حوالہ دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ’’ امریکا سرکاری طور پر سڑکوں پر نکلنے والے افراد کی حمایت کررہا ہے اور امریکا اور مغرب سب منافقین کی حمایت میں متحد ہوچکے ہیں‘‘۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’’ سکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز کو مسلسل صورت حال کی براہ راست نگرانی کرنی چاہیے اور اس کی قیادت کے دفتر کو رپورٹ پیش کرنی چاہیے‘‘۔

ایران کے کم وبیش تمام چھوٹے بڑے شہروں میں حکومت کے خلاف گذشتہ چھے روز سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد بیس ہوچکی ہے اور سیکڑوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔