.

افغان طالبان کا سابق یرغمالی جوشوا بوائل کینیڈا میں 15 الزامات پر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان کی پانچ سالہ قید سے رہائی کے بعد کینیڈا واپس جانے والے جوشوا بوائل کو اوٹاوا میں پندرہ جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

34 سالہ جوشوا کے وکیل کے مطابق پولیس نے ان کے موکل کے خلاف پندرہ الزامات عاید کے ہیں۔ان میں آٹھ حملے ، دو جنسی حملے ، دو جبری حراست میں رکھنے اور ایک قتل کی دھمکی سے متعلق ہے۔ تاہم انتظامیہ نے جوشوا کے متاثرہ افراد کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی عاید کردی ہے۔

جوشوا بوائل کے وکیل ایرک گرینگر نے ایک ای میل بیان میں کہا ہے کہ ’’ مسٹر بوائل بے گناہ ہیں ۔ وہ اس سے قبل اس طرح کے مسئلے سے دوچار نہیں ہوئے۔ہم شواہد کے منتظر ہیں اور پھر ان الزامات کے خلاف ان کا دفاع کریں گے‘‘۔

اوٹاوا پولیس نے جوشوا بوائل کے خلاف 30 دسمبر کو الزامات عاید کیے تھے اور وہ اس کے بعد سے جیل میں بند ہیں ۔انھیں بدھ کو عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔اوٹاوا پولیس نے اس موضوع پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سلسلے میں اونٹاریومیں اٹارنی جنرل سے رجوع کیا جائے۔

واضح رہے کہ امریکی ،کینیڈی جوڑے جوشوا بوائل، ان کی اہلیہ اور ان کے تین بچوں کو 11 اکتوبر 2017 کو پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں پاک فوج کے جوانوں اور انٹیلی جنس ادارے کے اہلکاروں نے مشترکہ کارروائی کرکے طالبان جنگجوؤں کے چنگل سے بازیاب کرایا تھا۔

جوشوا بوائل اور ان کی امریکی شہری اہلیہ کیٹلان کولمین کو 2012ء میں افغانستان میں کوہ پیمائی کے لیے سفر کے دوران میں اغوا کر لیا گیا تھا۔اغوا کے وقت اکتیس سالہ کیٹلان حاملہ تھیں۔ انھوں نے دوران حراست تین بچوں کو جنم دیا تھا۔افغانستان کے حقانی نیٹ ورک پر ان کے اغوا کا الزام عاید کیا گیا تھا اور بعد میں وہ پانچ سال تک طالبان کی قید میں رہے تھے۔

بوائل نے پاکستان سے ٹورانٹو پہنچنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اغوا کاروں پر اپنی بچی کے قتل اور بیوی سے عصمت ریزی کا الزام عاید کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کی حماقت اور برے برتاؤ کی وجہ سے ان کی نوزائیدہ بچی کی موت واقع ہوگئی تھی۔افغا ن طالبان نے ان دونوں سنگین الزامات کو من گھڑت اور جھوٹ قرار دیا تھا۔ان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس عورت کا ’’ فطری اسقاط حمل‘‘ ہوا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ بوائل اور کولمین کو دوران حراست میں کبھی بھی دوسرے سے الگ نہیں کیا گیا تھا کیونکہ مجاہدین کسی شبے کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔البتہ انھوں نے بچی کی موت کا اعتراف کیا تھا لیکن اس کی ایک مختلف کہانی بیان کی تھی اور کہا تھا کہ ’’ دوران حراست میں ایک واقعہ رونما ہوا تھاجب یہ عورت حمل سے تھی تو بیمار پڑ گئی تھی۔انھیں دور دراز علاقے میں رکھا گیا تھا۔وہاں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں تھا۔اس ناگہانی صورت حال میں اس عورت کی بچی کا اسقاط ہوگیا تھا‘‘۔