.

داعش کی معروف ترین فرانسیسی خاتون جنگجو گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں کرد جنگجوؤں نے 33 سالہ ایمیلی کوئنیگ کو گرفتار کر لیا ہے جس نے 2012 میں شام کا سفر کرنے کے بعد انٹرنیٹ کے ذریعے داعش کے لیے پروپیگنڈے اور بھرتی میں مرکزی کردار ادا کیا۔

فرانسیسی چینل BFM tv کے مطابق ایمیلی کی گرفتاری کا انکشاف اس کی ماں نے کیا ہے۔

واضح رہے کہ ایمیلی فرانسیسی اور عالمی انٹیلی جنس اداروں کو مطلوب اہم ترین شدّت پسند خواتین میں سے ہے۔

خطرناک ترین خاتون جنگجو

مذکورہ فرانسیسی چینل کے مطابق ایمیلی نے فرانس میں اپنے بعض جاننے والوں پر مسلح کارروائیاں کرنے کے لیے زور بھی دیا تھا۔

مئی 2012 میں اسے شدت پسندی اور پرتشدد سوچ پر مبنی پمفلٹ تقسیم کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں تحقیقات کے بعد فرانسیسی حکام نے اسے چھوڑ دیا۔ ایمیلی نے داعش تنظیم میں شمولیت کے لیے 2012 میں ہی شام کا سفر کیا۔ اگست 2013 میں وہ وطن واپس آئی تا کہ اپنی پہلی شادی سے ہونے والے دونوں بیٹوں کو ساتھ لے جائے تاہم کامیاب نہ ہونے پر ان کے بغیر ہی پھر سے کوچ کر گئی۔

اس نے داعش تنظیم کے ایک فرانسیسی رکن سے شادی کر لی اور 3 بچوں کو جنم دیا۔ شام میں ابتدا میں اس نے کلاشنکوف کی تربیت حاصل کی۔ اس دوران اس نے یوٹیوب پر ہتھیاروں کے ساتھ وڈیو کلپ بھی پوسٹ کیے۔

ستمبر 2014 میں اقوام متحدہ نے ایمیلی کا نام خطرناک ترین جنگجوؤں کی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا۔ اس کے ایک برس بعد امریکا نے بھی ایمیلی کا نام "دہشت گرد غیر ملکی جنگجوؤں" کی بلیک لسٹ میں ڈال دیا۔

کُردوں کے کیمپ میں

فرانس کے شمال مغرب میں لوریان میں سکونت پذیر ایمیلی کی 70 سالہ ماں نے فرانسیسی اخبار "ویسٹ فرانس" کو بتایا کہ اس کی بیٹی نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر رابطہ کیا تھا۔ ایمیلی نے ماں کو بتایا کہ "وہ اپنے تینوں بچوں کے ساتھ کردوں کے کیمپ میں ہے جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پوچھ گچھ کی گئی۔ وہ اور اس کے بچّے خوراک کی قلت کا بھی شکار ہیں۔ انہیں 3 مرتبہ مختلف مقامات پر منتقل کیا گیا"۔

ایمیلی کی ماں نے فرانسیسی حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے تا کہ ایمیلی اپنے تینوں بچوں سمیت فرانس واپس لوٹ سکے۔ اس کی ماں کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس جولائی میں رابطے کے دوران ایمیلی نے اپنی ندامت اور فرانسیسی سرزمین پر واپسی کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

قبولِ اسلام اور نقاب اتارنے سے انکار

ایمیلی کوئنیگ فرانس کے علاقے لوریان میں پیدا ہوئی۔ اس کا باپ مسلح افواج کا سپاہی تھا۔ اپنے چار بہن بھائیوں میں ایمیلی سب سے چھوٹی تھی۔ ایمیلی کی عمر دو برس تھی تو اس کے باپ نے چاروں بچوں کو ماں کے پاس چھوڑ کر علاحدگی اختیار کر لی۔

کیتھولک مذہب سے تعلق رکھنے والی ایمیلی اپنے قصبے کے اسکول میں تعلیم حاصل کرنے لگی اور اس کا تعلیم کا عرصہ معمول کے مطابق رہا۔ بعد ازاں اس کی شناسائی ایک الجزائری نژاد فرانسیسی نوجوان سے ہوئی۔ ایمیلی نے اسلام قبول کر کے اس سے شادی کر لی۔ اس شوہر سے ایمیلی کے دو بچّے پیدا ہوئے اور کچھ عرصے بعد اس کا شوہر منشیات کی تجارت کے الزام میں جیل چلا گیا۔

اسلام قبول کرنے کے بعد ایمیلی نے عربی زبان سیکھی اور نقاب پہننا شروع کر دیا۔ اس نے اسلامی تنظیم "فرسان العزہ" کے ساتھ رابطے میں رہ کر شدت پسندی کی دنیا میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں فرانسیسی حکام نے اس تنظیم کو کالعدم قرار دیا۔

سال 2010 سے اس نے نقاب پہن کر اپنے قصبے لوریان کی مسجد کے نزدیک کھڑے ہو کر جہاد کی دعوت پر مبنی پمفلٹس تقسیم کرنا شروع کر دیے۔

2012 میں اسے ایک عدالت میں طلب کیا گیا تو اس نے وہاں چہرے سے نقاب اتارنے سے انکار کر دیا اور ایک پہرے دار کے ساتھ جھگڑا بھی کیا۔ ایمیلی نے اس جھگڑے کی وڈیو بنا کر یوٹیوب پر پوسٹ بھی کی۔

بعد ازاں ایمیلی نے اپنے دونوں بچوں کو دیکھ بھال کے لیے اپنی ماں کے حوالے کیا اور پھر شام میں اپنے نئے شوہر سے ملنے کے لیے فرانس سے کوچ کر گئی۔