.

ایرانی بنک تباہ حال ملکی معیشت کا کمزور ترین حلقہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں غربت، بے روزگاری اور تنخواہوں کی عدم ادائی پرعوام میں پائی جانے والی غم غصے کی یہ لہر پہلی بار سامنے نہیں آئی بلکہ گزشتہ کئی سال سے ایران علامی اقتصادی پابندیوں، ناکام معاشی پالیسیوں اور دیگر وجوہات کی بناء پر عوام غیض وغضب کا نشانہ بن چکا ہے۔

ایران کی ابتر معاشی حالت کا کمزور ترین حلقہ ایرانی بنک سمجھے جاتے ہیں، جن کے پاس جہاں ایک طرف تو سرمائے کی قلت ہے تو دوسری طرف انہیں عالمی پابندیوں کا سامنا رہتا ہے۔ عالمی مالیاتی کمپنیاں بین الاقوامی پابندیوں کے خوف سے ایران میں سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایرانی بنکوں میں شرح منافح بہت کم کر دی گئی ہے۔

سنہ 2012ء اور 2013ء کے دوران ایران میں قومی پیدوار کی شرح سب سے کم ریکارڈ کی گئی۔ اس کی ایک وجہ تہران پر بین الاقوامی پابندیاں بھی تھیں۔ البتہ ایران کے آئل سیکٹر میں یہ شرح نمو برقرار رہی مگر غیر آئل سیکٹر میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔

ایران میں بنکنگ کا شعبہ سب سے زیادہ مشکلات کا شکار رہا ہے۔ انشورنس کے مسائل اقتصادی نقل وحرکت اور منڈیوں پر دباؤ ڈالنے کا موجب بنی۔ اس کے ساتھ اتھ بنکوں کو سرمائے پر منافع میں غیر معمولی کمی جیسے مسئلے کا سامنا رہا۔ ایران عالمی مالیاتی کمپنیوں کو اپنے ہاں سرمایہ کاری پر قائل کرنے میں بھی ناکام رہا۔ اس کے علاوہ ایران میں کرپشن اور بعض مالیاتی شعبوں میں مناسب ’چیک اینڈ بیلنس‘ نہ ہونے کے باعث عوام الناس کی جانب سے بنکوں اور دوسرے ایرانی مالیاتی اداروں کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

ایران میں سرمائے، اقتصادی شرح نمو اور منافع میں کمی امریکی اور عالمی اقتصادی پابندیاں ہیں۔ اگرچہ ایران پر بعض عالمی پابندیاں اب ختم کردی گئی ہیں مگر اس کے باوجود عالمی مالیاتی ادارے ایرانی کمپنیوں کے ساتھ لین دین کرنے یا ایران میں سرمایہ کاری سے گھبراتی ہیں۔ اس کی وجہ عالمی پابندیوں بالخصوص امریکا کی طرف سے پابندیوں کا کوڑا برسنے کا امکان ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔

سنہ 2016ء میں بنیادی سرمائے منافع کا اندازہ 5 فی صد لگایا گیا جوکہ عالمی معیارات سے بہت کم ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ نے تین ماہ پیشتر زیورخ میں ہونے والی کانفرنس کے دوران ایران کے بعض بنک عہدیداروں کے بیانات نقل کیے جن میں کہا گیا تھا کہ ایرانی بنکوں کے سرمائے کاحجم 700 ارب ڈالر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں بنکنگ سسٹم کی تشکیل نو کی ضرورت ہے۔ ایرانی بنکاروں نے چھ سال کے دوران ایران میں موجود غیر معیاری 35 بنکوں کی تعداد نصف تک کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔