.

ایران : احتجاجی مظاہرے مزید شہروں تک پھیل گئے ، جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی حکومت کی بعض شہروں میں اپنی حمایت اور مظاہرین کی مخالفت میں ریلیاں نکلوانے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے اور احتجاجی تحریک مزید شہروں تک پھیل گئی ہے۔ سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کے باوجود ایرانیوں نے حکومت کے خلاف مسلسل ساتویں روز مظاہرے جاری رکھے ہیں۔

دارالحکومت تہران کے بعض حصوں سے جمعرات کے روز ا حتجاجی مظاہروں کے دوران میں جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔کارگر اور رسم کے علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی ہے اور اس میں متعدد نوجوان زخمی ہوگئے ہیں۔

دارالحکومت کے انقلاب چوک میں پولیس سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے بازی کرنے والے مظاہرین پر پل پڑی۔وہ یہ نعرے بازی کررہے تھے:’’ آمر مردہ باد ‘‘۔ ’’ ہم مرجائیں گے لیکن ایران کو واپس لیں گے‘‘۔ شاہراہ جمہوریت اور ولی عصر ایوی نیو پر ایرانیوں نے حکومت کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں۔انتظامیہ نے کسی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے انقلاب چوک کے نزدیک چھتو ں پر نشانہ باز بندوقچی تعینات کررکھے تھے۔

زاہدان اور دوسرے شہروں میں بھی مظاہروں اور جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔زاہدان کے علاقے شیر آباد میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔وہاں شرپسندوں نے مظاہرین پر فائر کھول دیا اور انھوں نے جواب میں پتھراؤ کیا ہے۔

حکومت نے اہواز میں مظاہروں پر قابو پانے کے لیے باسیج ملیشیا کو پولیس کی وردیوں میں تعینات کردیا ہے۔بندرعباس میں بھی ایرانیوں نے حکومت کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے خلاف نعرے بازی کی ہے۔ملائیر ،دیزفل اور سبزح گھابا سے بھی مظاہرین اور پولس میں جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

اصفہان میں حکومت کے خلاف نعرے بازی کرنے والے افراد اور پولیس افسروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں اور پولیس نے مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلائی ہیں۔اصفہان میں واقع غورتان میں بھی پولیس اور مظاہرین کےدرمیان مڈ بھیڑ ہوئی ہے اور وہاں سے ایک دھماکے کی آواز سنی گئی ہے۔کرمان شاہ میں احتجاجی جلو س کے دوران جھڑپ کے بعد پولیس اہلکار نوجوانوں کے مقابلے میں بھاگ نکلے۔

تہران اور دوسرے شہروں میں رات کے وقت بھی احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایرانی حکام نے دارالحکومت میں صرف تین روز میں 450 سے زیادہ افراد کی گرفتاریوں کی تصدیق کی ہے۔ا ن کے عزیز واقارب کی بڑی تعداد ملاقات کے لیے ایوین جیل پہنچی تھی لیکن انھیں اپنے پیاروں سے ملنے نہیں دیا گیا جس کے بعد وہاں صورت حال کشیدہ ہو گئی تھی۔