.

ایران : احتجاج کچلنے کے لیے "الحشد" ملیشیا اور افغان اجرتی قاتلوں سے مدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ضلعے اہواز میں ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ حکام نے تہران نواز عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے عناصر کو لا کر اہواز اور ملک کے دیگر صوبوں میں پھیلا دیا ہے تا کہ تہران کے خلاف جاری عوامی احتجاج کو کچلا جا سکے۔

الحشد الشعبی کے ارکان کا ایک گروپ بدھ کی شام اہواز شہر کے علاقے الثورہ میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں پاسداران انقلاب اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ شریک ہوا تھا۔

ادھر ایران میں احتجاج کی کوریج کرنے والی ویب سائٹ "آمد نیوز" کے مطابق پاسداران انقلاب نے شام میں لڑنے والی افغان ملیشیا "فاطمیون" کے ہزاروں اجرتی قاتلوں کو ایران لا کر انہیں صوبہ اصفہان کے "خمينی شہر" منتقل کر دیا ہے۔ یہاں وہ شہر میں جاری عوامی احتجاج کے خلاف کریک ڈاؤن میں شریک ہوں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اہواز کے نواحی علاقوں میں روزانہ رات کو مظاہرے کی کال دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اہواز میں دن کے اوقات میں حالات کچھ پرسکون رہتے ہیں تاہم رات کے وقت صورت حال یکسر مختلف ہوتی ہے اور اس دوران گرفتاریاں اور جھڑپیں دیکھنے میں آتی ہیں۔

اہواز شہر میں بینکوں اور پولیس مراکز کی سکیورٹی بہت سخت کر دی گئی ہے۔ حکام نے شہر کے مرکزی بازار میں لوگوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ سہ پہر تین بجے کے بعد اپنی دکانیں بند کر دیں۔

سکیورٹی فورسز نے اُن عسکری بیرکوں کے اطراف میں بارودی سرنگیں بھی نصب کر دی ہیں جہاں ہتھیاروں کے ذخائر موجود ہیں۔

ادھر پاسداران انقلاب کے ایک بیان کے مطابق ملک کے مغربی شہر پیرانشہر میں "خمینی کے انقلاب کے دشمن" عناصر کے ساتھ جھڑپوں میں ایرانی انٹیلی جنس کے 3 اہل کار ہلاک ہو گئے۔

دوسری جانب ایرانی سرکاری حکام نے بدھ کی صبح ملک بھر میں اپنی حمایت میں ریلیوں کا انعقاد کیا۔ شرکاء میں زیادہ تر مُلّائی نظام کی درس گاہوں کے طلبہ، بیسج اور پاسداران انقلاب سے تعلق رکھنے والے اہل کار، سرکاری ملازمین اور اسکولوں کے طلبہ شامل تھے جنہیں حکومتی بسوں کے ذریعے لایا گیا تھا۔ شرکاء نے ایرانی نظام اور حکومت کے حق میں نعرے بازی کی اور "فساد بھڑکانے والوں اور تخریب کاروں" کو یکسر مسترد کر دیا۔

ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای پہلے ہی یہ دعوی کر چکے ہیں کہ نظام کے خلاف مظاہروں کو "بیرونی سپورٹ" سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔

ایران سے موصول ہونے والی آخری خبروں کے مطابق دارالحکومت تہران، اصفہان، کرمان شاہ، کازرون، خرم آباد، قہدریجان، عیلام اور دیگر شہروں میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ شدید جھڑپوں کے بعد رات کے اوقات میں وسیع پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔