.

سعودی موجدین کی ٹیم ’’نیوم‘‘ کے لیے بجلی کس طرح پیدا کرے گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی موجدین کی ٹیم نے ایک ایسی ٹیکنالوجی ایجاد کر لی ہے جس سے مملکت کے شمال میں تعمیر کیے جانے والے نئے صنعتی اور کاروباری شہر نیوم کو بجلی مہیا کی جاسکے گی۔

اس کے موجد مشعل الحراسانی نے اس ایجاد کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔اس ایجاد سے حرکی توانائی کے ذریعے بجلی پیدا کی جائے گی۔ یعنی شاہراہ پر گاڑیوں کے ٹائروں کے چلنے سے بجلی پیدا ہوگی۔

مشعل الحراسانی اس وقت جامعہ شاہ عبدالعزیز میں نائب صدر برائے کاروبار اور علمی تخلیق کے مشیر کے طور پر کام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیوم مستقبل کا منصوبہ ہے اور مستقبل پائیدار توانائی میں پنہاں ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ انجنیئرنگ کی دو ٹیموں نے مل کر توانائی کا یہ منصوبہ تیار کیا ہے۔اس کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ راستے میں ڈھلواں قدم بنائے گئے ہیں ۔وہ ٹربائینوں سے مربوط ہوں گے اور ان پر چلنے والی کاروں کے ٹائروں کی رگڑ سے بجلی پیدا ہوگی۔

انھوں نے مزید وضاحت کی ہے کہ گاڑیوں کی رفتار اور دباؤ سے توانائی پیدا ہوگی اور پھر اس کو بجلی میں تبدیل کیا جائے گا۔اس وقت سعودی عرب میں کسی شاہراہ پر اس طرح کی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر بجلی پیدا نہیں کی جارہی ہے۔

سعودی ساختہ اس ایجاد کو ولی عہد ، نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کو پیش کیا گیا ہے۔انھوں نے نیوم منصوبے کا ا فتتاح کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نئے زون میں نئے طرز زندگی اور اعلیٰ پائیداری کے حامل معیارات مہیا کیے جائیں گے۔

الحراسانی کا کہنا تھا کہ ’’ سعودی ویژن 2030ء کے ساتھ ہمارا ملک بھی پہلی دنیا میں شمار ہونے جارہا ہے۔ہماری حکومت سعودی نوجوانوں اور ان کی صلاحیتوں میں یقین رکھتی ہے اور ہم اپنے ملک کی تعمیر وترقی کا جذبہ رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب پانچ سو ارب ڈالرز کی لاگت سے نیوم کے نام سے جدید صنعتی اور کاروباری شہر بسا رہا ہے۔اس منصوبے کی تکمیل سے حکومت کو توقع ہے کہ سعودی عرب صنعتوں اور ٹیکنالوجی کا ایک بڑا مرکز بن کر ابھرے گا۔