.

ٹرمپ کی ٹوئیٹس مظاہرین کو اشتعال دلاتی ہیں: اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب نے بدھ کے روز امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب غلام علی خوشرو نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوترش کے نام خط میں کہا ہے کہ "امریکی صدر کی قیادت میں امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں مظاہروں کے لیے سپورٹ پیش کر کے ایران کے اندرونی معاملات میں اپنی صریح مداخلت میں اضافہ کر دیا ہے"۔

خوشرو نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ اس نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے میثاق کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔ خوشرو نے اس حوالے سے واشنگٹن کے بیانات کی مذمت کا مطالبہ کیا۔

ایرانی مندوب کے مطابق "امریکی صدر اور نائب صدر نے اپنی بے ہودہ نوعیت کی ٹوئیٹس کے ذریعے ایرانیوں کو اُکسایا کہ وہ ملکی نظام میں خلل ڈالنے کے لیے کارروائیاں کریں"۔

ایرانی مندوب نے اپنے خط میں واضح کیا کہ ایک ہفتے سے ایران کے مختلف شہروں میں جو عوامی احتجاج نظر آ رہا ہے یقینا وہ محدود پیمانے پر ہونے والی سرگرمی ہے جس کو "انقلابِ ایران کی معاند" بیرونی قوتیں عمل میں لا رہی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنی ٹوئیٹ میں ایرانی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ "وقت آنے پر" وہ سپورٹ فراہم کریں گے۔ تاہم ٹرمپ نے اس سپورٹ کی نوعیت کی وضاحت نہیں کی تھی۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام اس وقت بدعنوان حکام سے اقتدار کی زمام واپس لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر ذمے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہائٹ ہاؤس ایرانی نظام کی شخصیات یا اُس کے حامیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جو ایران میں احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن میں ملوث ہیں۔