.

’جُمعہ کوحوثیوں نے سعودیہ پر بیلسٹک میزائل حملے کی ناکام کوشش کی تھی‘

عرب اتحاد نے یو این رابطہ کار کے سعودی عرب پر الزامات مسترد کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کی عمل داری کی بحالی کے لیے قائم عرب عسکری اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے گذشتہ جمعہ کو بھی سعودی عرب پر ایک اور بیلسٹک میزائل حملے کی ناکام کوشش کی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نےایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حوثی اب تک سعودی عرب پر 86 میزائل حملے کر چکے ہیں جن سے بیشتر ناکام رہے ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ حوثی باغیوں نے گذشتہ جمعہ کو بھی سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملے کی کوشش کی تھی مگر حملہ ناکام رہا تھا۔

انہوں نے کہا کہ حوثی باغیوں کو جنگجوؤں کی بڑی تعداد میں ہلاکتوں کے باعث افرادی قوت کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اس قلت کو دور کرنے کے لیے باغی کم عمر بچوں کو جنگ میں جھونک رہے ہیں جو کہ بین الاقوامی قوانین کے سخت ترین جرم تصور کیا جاتا ہے۔

کرنل المالکی نے یمن کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار جیمی ماک گولڈریک کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا جس میں سعودی عرب پر یمن میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے کے رابطہ کار کی رپورٹ میں مصدقہ معلومات کا فقدان ہے اور غیرحقیقی واقعات کو بہ طور ثبوت پیش کر کے سعودی عرب کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عرب اتحاد یمن میں حوثی شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری رکھے گا۔ حوثیوں کے اسلحہ کے ذخائر اور ان کے جنگجوؤں کو ہر جگہ نشانہ بنایا جائے گا۔ حوثی باغی بحری تجارتی گذرگاہوں میں بھی بارودی سرنگیں بچھا کر موت بانٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ جنگجو غارون میں اسلحہ، میزائل اور گولہ بارود چھپا رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کرنل المالکی نے کہا کہ یمن کی بری، بحری اور فضائی ناکہ بندی نہیں کی گئی۔ یمن کی تمام راہ داریاں آمد ورفت کے لیے کھلی ہیں۔