.

امریکا کی جانب سے 5 ایرانی اداروں پر پابندیاں عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے جمعرات کے روز پانچ اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں جن کے صدر دفاتر ایران میں ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ ان اداروں کا تہران کے اسلحہ پروگرام سے تعلق ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان اداروں میں ایک ریسرچ سینٹر اور صنعت کے شعبے کی چار کمپنیاں شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایرانی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ "وقت آنے پر" اپنی سپورٹ فراہم کریں گے تاہم ٹرمپ نے اپنی بات کی مراد واضح نہیں کی۔

امریکی صدر نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ "ایرانیوں کے لیے تمام تر احترام جو اس وقت بدعنوان حکام سے اقتدار کی زمام واپس لینے کے لیے کوشاں ہیں۔ وقت آنے پر امریکا کی طرف سے آپ لوگوں کو بڑی سپورٹ حاصل ہو گی"۔

حالیہ احتجاج کی لہر کے آغاز کے ساتھ ہی ٹرمپ نے ایرانی نظام پر اپنی نکتہ چینی بڑھا دی تھی اور اسے "وحشیانہ اور بدعنوان" قرار دیا۔ یہاں تک کہ پیر کے روز انہوں نے یہ بھی کہہ ڈالا کہ "تبدیلی کا وقت" آن پہنچا ہے۔ ٹرمپ نے ایرانی عوام کے بارے میں کہا کہ وہ "آزادی کے پیاسے" ہیں۔

ایران میں جمعرات 28 دسمبر سے عوامی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جو ملک کے مختلف شہروں تک پھیل چکا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 22 افراد اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔

مظاہرین نے بعض علاقوں بالخصوص اصفہان کے شہر "خمینی شہر" میں مذہبی علمی تربیت گاہوں "الحوزات" کو بھی آگ لگا دی۔ ان تربیت گاہوں سے شیعہ مذہبی شخصیات یا ایران میں حکمراں مُلّائی عناصر فارغ التحصیل ہو کر نکلتے ہیں۔ یہ اقدام اس امر کی علامت ہے کہ عوام ملک میں مذہبی شخصیات کی حکمرانی پر کتنے بپھرے ہوئے ہیں۔