.

روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں 48 ہزار بچوں کی پیدائش متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے دوران بنگلہ دیش میں قائم روہنگیا پناہ گزین کیمپوں میں 48 ہزار بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’بچوں کو بچاؤ‘ نامی ایک تنظیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ میانمار کی ریاستی دہشت گردی اور فوجی مظالم کے نتیجے میں بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے لاکھوں مسلمانوں میں ہزاروں کی تعداد میں حاملہ خواتین بھی شامل ہیں۔ رواں سال کے دوران بنگلہ دیش میں قائم روہنگیا کیمپوں میں 48 ہزار نئے بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ روہنگیا پناہ گزین خواتین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو خوراک اور دیگر بنیادی ضروریات کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے اورانہیں صحت کے مسائل درپیش آ سکتے ہیں۔

ادھر کوکس بازار میں قائم پناہ گزین کیمپ میں متعین کردہ عالمی امدادی ادارے کی مشیرہ برائے صحت راشیل کامینگز کا کہنا ہے کہ کیمپ میں موجود افراد کو صحت کے بدترین مسائل کا سامنا ہے۔ کیمپوں میں ڈائیریا،خسرہ اور ہیضہ جیسی وبائیں عام ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے پیدا ہونے والے بچوں کو یہ امراض زیادہ متاثر کر سکتے ہیں۔ اس لیے یہ کیمپ بچوں کی ولادت کے لیے مناسب نہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس برما کی پولیس اور فوج کی دہشت گردی کے نتیجے میں ساڑھے چھ لاکھ روہنگیا مسلمان ملک سے ھجرت کر کے بنگلہ دیش پہنچے تھے۔ ھجرت کرنے والوں میں 60 فی صد بچے اور خواتین ہیں۔