.

سعودی دوشیزہ کا پولیس اہلکار بننے کا خواب کیسے پورا ہوا؟

امریکی پولیس کی سعودی تفتیش کارہ کے حالات وخیالات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسلسل محنت، لگن اور اپنے مشن سے شوق انسان کو اس کی منزل سے ضرور ہم کنار کرتا ہے۔ اس کی ایک تازہ اور زندہ مثال سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی نادین السیاط ہیں۔ السیاط نے جیسے ہی شعور کی عمر میں قدم رکھا تو اسے پولیس میں کام کرنا بہت پسند تھا۔ اگرچہ سعودی عرب میں رہتے ہوئے اس کا یہ خواب پورا نہ ہوا تاہم اس نے امریکا میں اسکالرشپ پر تعلیم کے حصول کے دوران پولیس ’ویمن‘ بننے کا اپنا خواب شرمندہ تعبیر کرلیا۔

نادین السیاط نے اپنی دلچسپ کہانی’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بھی شیئر کی۔ نادین نے بتایا کہ اس نے ابتدائی تعلیم اپنے ملک سعودی عرب ہی میں حاصل کی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ امریکا گئیں انہیں اپنے پسند کے شعبے میں داخلہ مل گیا۔ اس نے بتایا کہ قانون اور فوج داری امور سے متعلق شعبے میں تدریس نے اسے پولیس میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا۔ امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ کی زیرنگرانی پولیس کےشعبے میں کام کئی حوالوں سے دلچسپ اور حیران کن رہا۔

نادین السیاط کا کہنا ہے کہ وہ پہلی سعودی خاتون ہیں جنہوں نے ’کریمینل سیکیورٹی‘ کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ امریکا میں اس کا باقاعدہ عملی تجربہ کیا۔ اس نے بتایا کہ اسے بچپن ہی سے پولیس وردی پہننا اچھا لگتا تھا اور وہ پولیس میں خدمات انجام دینا چاہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پولیس ہی سے متعلق فلمیں بھی دیکھنے میں دلچسپی رکھتی تھی۔

اس نے شاہ سعود یونیورسٹی بزنس مینیجمنٹ کے شعبے میں گریجویشن تک تعلیم حاصل کی۔ اس نے چند سال سعودی عرب میں پرائیویٹ اور سرکاری سطح پر بزنس ایڈمنسٹریشن میں ملازمت بھی کی مگر اس کا دل اس شعبے میں کام میں نہیں لگتا تھا۔ اس نے ملازمت سے استعفیٰ دیا اور اسکالرشپ پر تعلیم کے حصول کے لیے امریکا چلی گئیں۔

امریکا میں اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیتے وقت اپنے من پسند شعبے کا انتخاب کیا اور یونیورسٹی میں ’ فوج داری انصاف‘ کے مضمون میں ایم میں داخلہ لے لیا۔

ایم اے کرنے کے بعد اس نے امریکی ریاست کولوراڈو کی پولیس کے ساتھ انٹرن شپ پرکام تربیت شروع کردی۔ چار ماہ کے دوران اس نے ریسرچ ایڈ منسٹریشن، پٹرولنگ پولیس اور فورنزک لیبارٹری میں کام کیا۔ سنہ 2014ء میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نے دو ماہ اضافی رضاکارانہ طور پر بھی پولیس کے ہمراہ خدمات انجام دیں۔

نادین السیاط نے بتایا کہ چھ ماہ کے پولیس میں تربیتی کورس کے دوران اس نے دفتر اور فیلڈ دونوں مقامات پر کام کیا۔ وہ ملزمان اور عینی شاہدین سے تفتیش کے موقع پر بھی موجود رہتیں۔ فورینزک لیبارٹری اور پٹرولنگ کے شعبے میں بھی پولیس کے ساتھ معاونت کی۔

ایک سوال کے جواب میں السیاط نے بتایا کہ اس کی امریکی پولیس زیرنگرانی تربیت کے دوران کئی عجیب اور خطرناک نوعیت کے کیسز بھی سامنے آئے۔ جن کیسز کی تفتیش میں السیاط نے خود بھی حصہ لیا، ان میں قتل کا ایک کیس بھی شامل تھا۔ اس کیس میں ایک شخص نے اپنی بیوی قتل کر دی تھی۔ تفتیش کے دوران انہوں نے ان کے ایک سات اور دوسرے نو سالہ بچے سے بھی پوچھ تاچھ کی۔ یہ کیس ان کے لیے تکلیف دہ تھا کیونکہ بچوں کی حالت قابل رحم تھی۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں امریکا میں پولیس کے ساتھ کام کے دوران پیش آنے والے انوکھے واقعات کے بارے میں السیاط نے کہا کہ فیلڈ میں ملزمان سے تفتیش کے دوران بعض اوقات عجیب وغریب واقعات بھی پیش آتے رہے۔

امریکی جیلوں میں بد نظمی سے متعلق سوال کے جواب میں نادین السیاط نے کہاکہ پولیس کے تھانوں میں کام کے دوران اس کا واسطہ بعض اوقات سنگین جرائم میں ملوث افراد سے بھی پڑا۔ مگر تھانے میں کسی ملزم کو 12 گھنٹے سے زیادہ دیر تک رکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تاہم اس نے ایک خاتون اہلکار کے ہمراہ جیل میں قید ملزمہ سے بھی پوچھ تاچھ کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکی پولیس کا تفتیش کا طریقہ کار بہت سے ممالک کی تفتیش سےمختلف ہے۔ امیرکی پولیس جدید ٹیکنالوجی کو تفتیش کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہی خوبی امریکی پولیس کو دنیا کے دوسرے ملکوں کی پولیس سے ممتاز کرتی ہے۔

امریکی سماج میں جرائم سے متعلق سوال کے جواب میں السیاط نے کہا کہ اسے امریکا میں پولیس کے ساتھ کام کرتے ہوئے قتل کے کیسز کے حوالے سے بہت دیکھ ہوتا ہے بالخصوص ایسے قتل جہاں ملزم شوہر یا بیوی ہو۔ کیونکہ ایسے کیسز میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ان کے بچے ہوتےہیں۔

نادین السیاط نے امریکا میں پولیس کے ساتھ کام کےتجربات کو ایک کتابی شکل میں مربوط کرنے کی کوشش کی ہے۔