.

احتجاج کچلنے کے لیے ایرانی نظام کی نئی تدابیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک طرف ایرانی نظام ملک میں دس روز سے جاری عوامی احتجاج کو کچلنے کے لیے 2009 میں سبز تحریک اور 1999 میں طلبہ تحریک کے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے تجربات کا سہارا لے رہا ہے۔ دوسری جانب احتجاجی ریلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مظاہرین بھی ایسی نئی تدبیروں کے حامل ہیں جو احتجاج کی شعلے کو بھڑکائے رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

ایرانی نظام کے سکیورٹی ادارے اندھادھند گرفتاریاں کر رہے ہیں جن کا مقصد منظّم طور پر مظاہروں میں شریک افراد میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہے۔ اب گرفتار افراد میں طلبہ ، صحافی اور کارکنان شامل ہیں۔

ایرانی نظام نے اپنے متخاصم اداروں اور فریقوں کو باہمی چپقلش کے حوالے سے خاموش کرا کر ان سے احتجاجی مظاہروں کی مذمت کا مطالبہ کیا ہے۔ روحانی حکومت ، سخت گیروں اور اصلاح پسندوں بالخصوص محمد خاتمی کی جانب سے مذمّتی بیانات جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم محمود احمدی نژاد اور ان کے پیروکاروں نے ابھی تک چُپ سادھ رکھی ہے۔ اس خاموشی کے سبب پاسداران انقلاب نے نژاد پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ خود احتجاج میں ملوث ہیں یا کم از کم ان مظاہروں پر راضی ہیں تا کہ نظام پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

ایرانی نظام نے خود پر سے دباؤ کم کرنے کے لیے "تنقّسِ نفس" کی تدبیر بھی اختیار کی ہے۔ اس سلسلے میں سرکاری ٹی وی پر عدلیہ کے معاون کا ایک انٹرویو نشر کیا گیا جس میں انہوں نے روحانی حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے سرکاری ریڈیو اور ٹیلی وژن جس پر سخت گیر حلقوں کا غلبہ ہے ان پر بھی الزام لگایا کہ یہ باقاعدہ منظّم طور پر جھوٹ پھیلا رہے ہیں اور لوگوں کی آراء کو پیش نہیں کر رہے ہیں۔

اصلاح پسند رکن پارلیمنٹ محمود صادقی نے بھی ایندھن اور بنیادی ضروریات کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے اور حکومتی اخراجات میں کمی کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین کی تدابیر

دوسری جانب دس روز سے سراپا احتجاج کی تصویر بنے ہوئے ایرانی عوام نے جدید تدابیر استعمال کی ہیں جو اس سے قبل 2009 میں سبز تحریک کے شرکاء کے سامنے موجود نہیں تھیں۔ حالیہ احتجاج کے دوران مظاہرین نے کئی مواقع پر سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کے اکٹھا ہونے اور مظاہروں کے آغاز کے مقامات کے علاوہ ریلیوں کے رُوٹ بھی تبدیل کیے۔

کئی چھوٹے اور بڑے گروپوں نے یہ طریقہ اپنایا کہ وہ براہ راست احتجاجی مجمع میں شریک نہیں ہوتے اور حتی الامکان خود کو بچاتے ہوئے مظاہروں کی سرگرمیوں کی عکس بندی کر کے انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے بیرونی میڈیا تک پہنچاتے ہیں۔ اس طرح مختلف مقامات سے احتجاج کرنے والوں کے وڈیو کلپ وقتا فوقتا سامنے آنے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

اس کے علاوہ سکیورٹی فورسز کا مقابلہ کرنے کے لیے مظاہرین نے اس بنیادی اصول کو اپنا رکھا ہے کہ وہ احتجاج کے لیے ایک بڑے مقام کے بجائے متعدد مقامات کا چناؤ کرتے ہیں۔ تا کہ مختلف اوقات میں مختلف مقامات پر نکلنے کی صورت میں سکیورٹی فورسز بھی منتشر ہو جائیں۔

مبصرین کے مطابق 1979 میں شاہ ایران کی حکومت گرانے کے لیے ہونے والے مظاہروں میں احتجاجی مجمع نائٹ کیفے اور نائٹ کلبوں پر حملہ کرتا تھا۔ تاہم اس مرتبہ امام بارگاہوں پر حملہ کیا جا رہا ہے جو باسیج ملیشیا اور ملائی نظام کے دیگر مراکز کے صدر دفاتر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ خمینی اور خامنہ ای کی تصاویر اور یہاں تک کہ اسلامی جمہوریہ کے نظام کے پرچم تک کو نذر آتش کیا گیا ہے۔ یہ اُس ایرانی نظام اور اس کے نعروں کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے جو خمینی کی موت کے بعد پیدا ہونے والی نسل کے نوجوانوں کو کسی طور بھی قابلِ قبول نہیں۔