.

ایرانی ترک بھی سڑکوں پر نکل آئے، تبریز میں مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے شمالی شہر تبریز میں آباد ترک نسل کے افراد بھی حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور ان کی فوج کے ایک یونٹ سے جھڑپ ہوئی ہے۔

ایران کے دوسرے شہروں میں گذشتہ دس روز سے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ۔تبریز میں ہفتے کے روز مشتعل مظاہرین نے احتجاج کے دوران ایک فوجی یونٹ کی جانب راکٹ فائر کیے ہیں اور اس واقعے کی ایک ویڈیو انٹر نیٹ پر پوسٹ کی ہے۔

اس ویڈیو میں ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’’ یہ انقلاب کا اختتام ہے‘‘۔ وہ 1979ء میں ایران میں برپا شدہ انقلاب کا حوالہ دے رہا تھا۔

بعض مبصرین نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ آذر بائیجانی ترکوں کی ایرانی رجیم کے خلاف احتجاجی تحریک میں شرکت ایک اہم پیش رفت ہے۔آذربائیجانی ترک ایران میں فارسی بانوں کے بعد دوسرا بڑا نسلی گروپ ہیں۔ انھوں نے بھی 1979ء کے انقلاب میں حصہ لیا تھا اور شاہ ایران کے تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔

ایران میں بے روزگاری ،مہنگائی اور ناگفتہ بہ معاشی حالات کے خلاف مشہد میں 28 دسمبر کو احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے دوسرے شہروں میں پھیل گئے تھے۔اب مظاہرین صدر حسن روحانی کی حکومت اور سپریم لیڈر کے رجیم کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

درایں اثناء ایرانی حکومت مظاہروں پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کررہی ہے اور ایران کی وزارتِ زراعت نے جمعہ کو یہ اعلان کیا تھا کہ چاول کی قیمت میں مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی حکومت نے گذشتہ ماہ چاول کی قیمت میں دس فی صد ا ضافہ کیا تھا۔ اس فیصلے کو غربت کے نیچے زندگی گزارنے والے بیشتر ایرانیوں نے مسترد کردیا تھا۔