.

ایرانی میڈیا کی مظاہرین کو داعش سے جوڑنے کی بھونڈی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے مقرب خبر رساں اداروں نے ملک میں جاری پرامن احتجاج کو شدت پسند گروپ داعش کے ساتھ جوڑ کر انہیں متنازع بنانے کی بھونڈی کوشش کی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق پاسداران انقلاب کی مقرب خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’داعش‘ نے ملک میں جاری عوامی احتجاجی مظاہروں کی حمایت کی ہے۔

جمعہ کے روز ’فارس‘ ایجنسی کی جانب سے شائع کی گئی ایک خبر میں کہا گیا ہےکہ شدت پسند گروپ داعش نے ملک میں جاری عوامی احتجاج کی تحریک میں مظاہرین کی حمایت کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں جاری احتجاج کے دوران حکومت کے لیے سب سے خوفناک امر داعش کی طرف سے مظاہرین کی حمایت ہے۔

حالیہ دنوں کے دوران ایرانی حکام شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کےپیچھے غیرملکی سازش کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ ایران کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ احتجاج کے پیچھے امریکا، برطانیہ اور اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ یہ ممالک ایران میں عوامی احتجاج کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ داعش کی جانب سے مظاہرین کی حمایت یا تاثر دے کر ایرانی رجیم احتجاج کرنے والےشہریوں کو طاقت سےکچلنے کا پروگرام بنا رہی ہی ہے۔

ایران میں حکومت کے خلاف اٹھنے والی عوامی احتجاج کی تحریک میں ایسے گروپ اور شخصیات سامنے آئی ہیں جو اب تک غیرمعروف ہیں۔ ایران میں احتجاج کا آغاز معاشی اور سماجی نا انصافیوں کےخلاف نعرے سے ہوا جو جلد ہی حکومت کے خلاف بغاوت کی تحریک کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایرانی حکومت نے احتجاج روکنے کے لیے طاقت کےہھتکنڈے استعمال کرنا شروع کیے ہیں۔