.

بھارت: لالو پرساد یادیو کو بدعنوانی کے جرم میں ساڑھے تین سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں ایک عدالت نے طاقتور علاقائی سیاست دان لالو پرساد یادیو کو سرکاری رقوم میں غبن کے الزام میں قائم ایک اور مقدمے میں ساڑھے تین سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں قائم عدالت نے ہفتے کے روز لالو پرساد اور پندرہ دیگر مدعاعلیہان کے خلاف ریاست بہار کے سرکاری فنڈز میں خرد برد کے جرم میں قصور وار قرار دے کر فیصلہ سنایا ہے۔انھوں نے کوئی دوعشرے قبل سرکاری خزانے سے 84 لاکھ پچاس ہزار روپے کی خرد برد کی تھی۔

عدالت کے جج شیو پال سنگھ نے ان سب افراد کو ساڑھے تین سال سے سات سال تک قید کی سزا ئیں سنائی ہیں ۔لالو کے بیٹے تیج پرتاپ یادیو نے اس فیصلے کے بعد کہا ہے کہ اس کوعدالت عالیہ میں چیلنج کیا جائے گا۔

لالو پرساد یادیو اس وقت 1996ء کے مشہور چارا اسکینڈل کے ایک اور مقدمے میں جیل میں پانچ سال کی قید بھگت رہے ہیں۔ انھیں ریاست بہار کے قومی خزانے سے مویشیوں کے لیے فرضی دواؤں اور ادویہ کے نام پر سینتیس کروڑ اسی لاکھ روپے نکلوانے کے جرم میں یہ سزا سنائی گئی تھی۔ عدالت کے ان کے انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عاید کررکھی ہے۔

یادیو نے اس سے پہلے 2013ء میں دو ماہ جیل میں گزارے تھے اور سپریم کورٹ نے عدالت کے فیصلے کے خلاف ان کی درخواست منظور کر لی تھی۔ایک اور مقدمے میں ان کے خلاف فیصلے کے بعد 23 دسمبر کو انھیں دوبارہ گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بھارتی سیاست میں کرپشن ایک دائمی روگ ہے اور اب ماتحت عدالتوں کے جج صاحبان عدالت عظمیٰ کے ایک حکم کے بعد بدعنوانیوں کے مقدمات کی تیزی سے سماعت کررہے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے پارلیمان کے اراکین کے خلاف دائر سنگین جرائم کے کیسوں کے ایک سال کے اندر فیصلوں کی ہدایت کر رکھی ہے۔

عدالت کے اس فیصلے کا مقصد جرائم پیشہ سیاست دانوں کو انتخابی عمل سے دور کرنا ہے اور اب دو سال تک قید کی سزا والے جرائم میں ماخوذ پارلیمان کے ارکان کے خلاف انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عاید کی جارہی ہے۔