.

ایران اِن 12 ملیشیاؤں کی خاطر اپنے عوام کو بھُوکا مارنے کے دَرپے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں عوام کی جانب سے جاری احتجاج کی بازگشت سارے عالم میں سُنی گئی ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ بیرونی ممالک میں ایران کی مداخلت کے اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں۔

ایران نے اندرونی سطح پر تو اپنے عوام کو بُھوک کا مارا بنا دیا اور دوسری جانب تقریبا چار دہائیوں سے بیرون ملک مسلح ملیشیائیں تشکیل دینے کے لیے کوشاں رہا۔

ایران اس وقت درجِ ذیل مسلّح گروپوں کے ذریعے کم از کم نو ممالک میں شورشوں کو جنم دینے میں مصروف ہے :

حزب الله - لبنان
حزب الله بریگیڈز - عراق
حركت النجباء - عراق
عصائبِ اهل الحق - عراق
فيلق بدر - عراق
ابو الفضل العباس بریگیڈ- شام
حجاز کی حزب الله – سعودی عرب
حوثی (انصار الله) - یمن
فاطميون بریگیڈ - افغانستان
اسلامی محاذ برائے آزادیِ بحرین
الحركہ الاسلاميہ (ابراہيم الزكزاكی کی جماعت) – نائجیریا
سپاہِ محمّد - پاکستان

ایران جو اس وقت خطّے میں غلبہ پانے کی تلاش میں ہے، اس نے کئی ممالک میں شیعوں کے حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی شہریت اور مالی رقوم کی لالچ دے کر انہیں تنازعات کے محاذ پر لڑنے کے لیے آمادہ کیا۔ شام میں افغان جنگجوؤں کے ساتھ یہ ہی معاملہ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شام میں لڑائی کے دوران "فاطمیون" بریگیڈ کے 2 ہزار افغانی ارکان ہلاک اور 8 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔