.

حوثیوں کے سرکردہ کمانڈر نے 50 ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے مغربی ساحلی محاذ پر تعینات عسکری ذررائع کا کہنا ہے کی جنوبی گورنری الحدیدہ کے حیس شہر میں لڑنے والے ایک اہم حوثی جنگجو کمانڈر نے اپنے 50 ساتھیوں سمیت سرکاری فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گرفتار حوثی کمانڈر کی شناخٹ ابراہیم عذابو کے نام سے کی گئی ہے۔ اس نے حیس شہر میں حکومتی فوج اور مزاحمتی ملیشیا کے سامنے ہتھیار پھینک کر خود کو ان کے حوالے کر دیا۔

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثی کمانڈر ابراہیم عذبو اور اس کے ساتھیوں نے شدید لڑائی کے بعد شکست تسلیم کرتے ہوئے خود کو حکام کے حوالے کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حیس کا مکمل محاصرہ کر لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ابراہیم عذبو حیس شہر میں حوثیوں کا اہم کمانڈر سمجھا جاتا ہے۔ اس پر شہریوں کے گھروں میں گھس کر لوٹ مار کرنے، قتل اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ عذبو ایک سابقہ قیدی تھا جسے سزائے موت سنائی گئی تھی، مگر حوثی باغیوں نے اسے محاذ جنگ پر لڑنے کی شرط پر جیل سے رہا کرتے ہوئے اس کی سزا معاف کر دی تھی۔

ادھر اسی سیاقمیں فیلڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ یمنی فوج نے مغربی ساحلی محاذ سے سرکاری فوج نے دو اہم حوثی لیڈروں فائز عمر علی عبدہ القدم اور العزی محمد ابراہیم الشجاف کو حراست میں لے لیا ہے۔

شمالی یمن کی ملحان ڈاریکٹوریٹ میں القدم اور الشجاف کو اہم لیڈر سمجھا جاتا ہے۔ یہ حوثی جنگجوؤں کی صفوں میں نئے افراد کی بھرتی سمیت دیگر ذمہ داریوں پر مامور تھے۔