.

حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والے 11 سعودی شہزادے گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکام نے دارالحکومت ریاض میں شاہی محل میں احتجاج کرنے پر گیارہ شہزادوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ گیارہ شہزادے تاریخی اہمیت کے حامل ’ قصر الحُکم‘ میں جمع ہو کر اپنے ایک رشتہ دار کو دی گئی سزائے موت کا معاوضہ طلب کر رہے تھے۔ علاوہ ازیں ان شہزادوں نے اُس حالیہ شاہی فرمان کی بھی مذمت کی جس کی رُو سے شاہی افراد کو پانی اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی کی مد میں دی جانے والی رقوم میں کٹوتی کی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے پراسیکیوٹر جنرل الشیخ سعود بن عبد اللہ المعجب نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ جمعرات 17 ربیع الثانی بمطابق چار جنوری کو شہزادے سرکاری خزانے سے یوٹیلٹی بلوں کی سرکاری خزانے سے ادائیگی بند کرنے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ سیکیورٹی حکام کی جانب سے بار بار شہزادوں کو محل چھوڑنے کا کہا گیا لیکن وہ احتجاج کرتے رہے جس انہیں گرفتار کرکے جیل منتقل کیا گیا ہے۔ گرفتار شہزادوں کے خلاف مقدمہ چلائے جانے کا امکان ہے۔

حکام نے گرفتار شہزادوں کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی اس کارروائی کے حوالے سے کوئی تفصیل جاری کی ہے تاہم کہا گیا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہے اور قواعد و ضوابط سب پر لاگو ہوتے ہیں کوئی شخص خواہ کتنا ہی با اثر کیوں نہ ہو قانون سے بالاتر نہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور کسی شہری کا خصوصی اسٹیٹس اسے قانون کی خلاف ورزی کی گرفت سے نہیں بچا سکتا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے کرپشن اور احتساب کی پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے بدعنوانی میں ملوث کئی موجودہ اور سابق اعلیٰ حکام سمیت شاہی خاندان کے درجنوں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔