.

پیٹرولیم وسائل کے تحفظ کے لیے لیبی فوج میں نئے بریگیڈ کی تاسیس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی سرکری فوج کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر نے تیل کے وسائل سے مالا مال علاقے 'پیٹرولیم کریسنٹ' میں تیل تنصیبات کی سیکیورٹی کے لیے فوج کا ایک نیا بریگیڈ تشکیل دیا ہے۔

جنرل حفتر کی جانب سے فوج کا نیا بریگیڈ ایک ایسے وقت میں تشکیل دیا گیا ہے جب حال ہی میں افریقی ملکوں میں متعین امریکی فوج ’افریکیوم‘ نے خبردار کیا تھا تھا کہ آنے والے دنوں میں شدت پسند گروپ ‘داعش‘ تیل کے علاقے اور تیل تنصیبات پر حملے کر سکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنرل حفتر کی جانب سے نیا بریگیڈ تشکیل دینے کا فیصلہ 31 دسمبر 2017ء کو کیا گیا تھا مگر اس کا باضابطہ اعلان کل ہفتے کے روز کیا گیا۔ نئے فوجی بریگیڈ کو ’لائٹ انفنٹری 110‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس بریگیڈ کو تیل تنصیبات کے مرکزی علاقے راس لانوف میں عارضی طور پر متعین کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اسے کرنل القذٓفی علی القذافی الصداعی کی زیر کمانڈ سرت الکبریٰ کے آپریشن کنٹرول روم کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں۔

لیبیا میں فوج کے نئے بریگیڈ کی تشکیل کا مقصد تیل کے وسائل اور تنصیبات کو دہشت گردوں کے حملوں سے بچانا ہے۔ حال ہی میں ’افریکیوم‘ کے ترجمان روبین ماک نے خبردار کیا تھا کہ داعش، لیبیا میں تیل کے وسائل سے مالا مال علاقے اور آئل تنصیبات پر کسی بھی وقت تباہ کن حملے کر سکتی ہے۔،

خیال رہے کہ لیبیا میں کریسنٹ آئل سیکٹر قدرتی تیل سے بھرپور علاقہ ہے یہ سیکٹر مشرق میں طبرق سے مغربی شہر السدرہ تک 200 کلو میٹر پر محیط ہے۔ 2016ء سے یہ علاقہ لیبیا کی سرکاری فوج کے کنٹرول میں ہے۔