.

یورپ اور امریکا میں ’’ایرانی بہار‘‘سے اظہار ِیک جہتی کے لیے مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپ ، کینیڈا اور امریکا کے متعدد شہروں میں سیکڑوں افراد نے ایران میں حکومت کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے مظاہرے کیے ہیں اور ایرانی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن بند کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

جرمنی میں برینڈن برگ گیٹ میں سیکڑوں افراد نے ایرانی مظاہرین کے حق میں ریلی نکالی۔انھوں نے جرمن حکومت اور عالمی برادری سے ایران کی شاہراہوں پر سرکاری سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مظاہرین کی ہلاکتیں رکوانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے ایرانی حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ احتجاجی تحریک کے دوران میں گرفتار کیے گئے تمام طلبہ ، سیاسی کارکنان اور حزبِ اختلاف کی شخصیات کو جیلوں سے رہا کرے اور ان کے خلاف دائر مقدمات ختم کرے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ایرانی سفارت خانے کے سامنے سیکڑوں افراد نے ایران میں مزاحمتی تحریک کے حق میں مظاہرہ کیا۔ مظاہرین میں فرانسیسی شہری اور ایرانی تارکینِ وطن بھی شامل تھے۔انھوں نے ایرانی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے مظاہرین کو خراج عقیدت پیش کیا اور ایرانی نظام کی سرکردہ شخصیات کے خلاف نعرے بازی کی۔

انھوں نے کہا کہ حکومت بیرون ملک شیعہ ملیشیاؤں پر اپنی قومی دولت لُٹا رہی ہے اور شہریوں کو بنیادی اشیائے ضروریہ مہیا کرنے کے بجائے سرکاری خزانے سے رقوم کو خطے کے ممالک میں جاری خانہ جنگیوں کو بھڑکانے میں اڑا رہی ہے۔

کینیڈا اور امریکا کے مختلف شہروں میں بھی مقیم ایرانی تارکینِ وطن اور دوسرے افراد نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے تحت نظام کے خلاف ریلیاں نکالی ہیں۔انھوں نے ہاتھوں میں ایرانی پرچم اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر مظاہرین سے اظہارِ یک جہتی کیا گیا تھا۔

ایران کے کم وبیش تمام چھوٹے بڑے شہروں میں گذشتہ گیارہ روز سے نظامِ حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ۔ملک میں بے روزگاری ،مہنگائی اور ناگفتہ بہ معاشی حالات کے خلاف مشہد میں 28 دسمبر کو احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے دوسرے شہروں اور قصبوں تک پھیل گئے تھے۔

اب مظاہرین صدر حسن روحانی کی حکومت اور سپریم لیڈر کے زیر نگرانی نظام کے خاتمے کا مطالبہ کرر ہے ہیں۔ مبصرین اس احتجاجی تحریک کو ایرانی بہار کا نام دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہےکہ اس کے ایرانی سیاست و معاشرت پر بڑے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔