.

‌ایرانی باسیج ملیشیا کے اہلکار احتجاج میں کیوں شامل ہونے لگے؟

باسیج ملیشیا پر العربیہ ڈاٹ نیٹ کی مفصل رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکومت اور مرشد اعلیٰ کے خلاف جاری عوام احتجاج کے دوران یہ حیران کن پیش رفت سامنے آئی ہے کہ پاسداران انقلاب کے زیر انتظام باسیج ملیشیا کے کئی اہلکار بھی اپنے فوجی شناخت جلا کر احتجاجی تحریک میں شامل ہوگئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں جاری عوامی انتفاضہ کے دوران مظاہرین کو جہاں ایک طرف ریاستی طاقت اور جبر وتشدد کے حربوں کا سامنا ہے وہیں مظاہرین میں حکومتی اداروں سے وابستہ افراد بھی شامل ہو رہے ہیں۔

گزشتہ گیارہ روز سے جاری احتجاجی تحریک کے دوران معاشی اور سماجی استحصال کے خلاف سڑکوں پر آنے والے شہریوں نے خامنہ ای مردہ باد، حکومت مردہ باد، خامنہ حکومت چھوڑ دو اور عوام کی مرضی کا سیاسی نظام نافذ کرنے کے نعرے لگائے گئے۔

ولایت فقیہ کل اہم ترین جزو خیال کیے جانے والے پاسداران کے نجی ادارے’باسیج‘ فورس کے اہلکاروں کا احتجاج میں شامل ہونا حیران کن ہے۔ کیونکہ فکری، تنظیمی اور سیاسی حتیٰ کی اقتصادی اعتبار سے باسیج فورس ولایت فقیہ کے تحفظ کا اہم کل پرزہ سمجھا جاتا ہے۔ باسیج میں بھرتی کوئی آسان نہیں کیونکہ اس ادارے میں شامل ہونے والوں کی کئی اداروں میں برین واشنگ کی جاتی ہے۔

فوج سے مںحرف ہونے والے باسیج عناصر کو ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ وہ اپنی فوجی شناختی دستاویزات کو نذر آتش کرنے کے بعد مظاہرین میں شامل ہوتے دکھایا گیا ہے۔ مںحرف ہونے والے باسیج عناصر کا کہنا ہے کہ وہ اپنی قوم کے قتل عام کے لیے فوج کے آلہ کار نہیں بن سکتے۔ باسیج کو چھوڑنے والے عناصر نے پاسداران انقلاب، ایران کی سرکاری فوج اور دیگر تمام سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ موجودہ عوامی احتجاجی تحریک میں حکومت کے کارندے بننے کے بجائے احتجاج میں شامل ہوجائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے فریب کا شکار رہے اور حکومتی کرپشن کی مسلسل پردہ پوشی کی۔ عوام کے اموال کی لوٹ مار میں حکومت کی مدد کی اور سپریم لیڈر، حکومت کے اعلیٰ حکام اور پاسداران انقلاب کے لیڈروں کی چاکری کرتے ہوئے عوام کو دھوکہ دیا۔

باسیج فورس بنیاد پر طور ان نوجوان شہریوں اور بے روزگار افراد، مذہبی مدارس کے طلباء کا ادارہ ہے جو خصوصی مراعات کے حصول روزگار، رہائش، گاڑی، قسطوں پر سامان یا یونیورسٹی میں داخلے کے اخراجات کے لیے اس فورس میں شامل ہوتے ہیں تاکہ انہیں ریاستی سطح پر مدد ملے سکے۔ بسیج میں آنے کے بعد انہیں کئی طرح کی سرگرمیوں پر مامور کیا جاتا ہے۔ داخلی سیکیورٹی سے متعلق ان سے رپورٹس جمع کرائی جاتی ہیں۔ سماجی سروسز کی فراہمی اور ولایتہ فقیہ کی حمایت اور ترویج کے لیے مذہبی تقریبات اور پروگرامات کا انعقاد ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

ایران میں مہنگائی، بے روزگاری، معاشی استحصال، حکومتی جبر اور عدم مساوات کےخلاف اٹھنے والی احتجاج کی حالیہ لہر کے دوران باسیج کے اہلکاروں کا عوام کی حمایت میں منحرف ہونا اس لیے حیرت کی بات نہیں کہ باسیج کے عناصر بھی اسی طرح کی نا انصافیوں کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے عوام باسیج کے ساتھ رہنے کے بجائےعوامی احتجاج میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں باسیج ملیشیا پر مفصل روشنی ڈالی ہے۔

تہران میں باسیج عناصر کی تعیناتی

پاسداران انقلاب کے ’محمد رسول اللہ‘ فیلق کے سربراہ جنرل محمد رضا یزدی نے اتوار کو اعلان کیا کہ باسیج فورس کو تہران کی شاہراؤں پر پٹرولنگ کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ بسیج کے اہلکار ملک میں جاری احتجاج کو روکنے کے لیے دیگر سیکیورٹی اداروں کی مدد کریں گے۔

مسٹر یزدی کا کہنا تھا کہ باسیج کے اہلکار قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں اور عدلیہ کے ساتھ مل کر دارالحکومت اور وہاں کے باشندوں کے تحفظ کے لیے کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس دارالحکومت کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔ دیگر سیکیورٹی ادارے جن میں باسیج کے اہلکار بھی شامل ہیں تہران میں تعینات کیے جائیں گے۔

پرتشدد حربوں کا استعمال

باسیج فورسز کے کئی اہلکاروں کا منحرف ہوکر عوامی انتفاضہ میں شامل ہونا اپنی جگہ مگر یہ فورس ماضی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو کچلنے میں بھی پیش پیش رہی ہے۔ سنہ 1999ء میں ایران میں طلباء تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن اور سنہ 2009ء میں سبز انقلاب تحریک کو کچلنے میں باسیج فورس نے دیگر ایرانی سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر تشدد کے مکروہ حربے استعمال کیے تھے۔

سنہ 2011ء میں باسیج کے عناصر برطانوی سفارت خانے اور 2016ء میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر دھاوا بولنے والوں میں باسیج عناصر پیش پیش رہے۔ باسیج اہلکار گرفتار کئے گئے شہریوں کو اذیتیں دینے میں بھی پیش پیش رہے اس کے علاوہ عراق اور شام کی جنگوں میں پاسداران انقلاب کے ہمراہ بھی ایرانی اجرتی قاتلوں کا کردار ادا کیا۔

باسیج کا قیام

باسیج ملیشیا کا قیام ایران کے پہلے سپریم لیڈر اور ولایت فقیہ کے نظام کے بانی آیت اللہ علی خمینی کے حکم پر سنہ 1979ء میں شاہ ایران کا تختہ الٹنے کے بعد عمل میں لایا گیا تھا۔

فارسی میں اس کا نام ’سازمان باسیج مستضعفین‘ یعنی کمزور اور ضعیف لوگوں کی موبلائزیشن آرگنائزیشن۔ اس میں مردو اور خواتین رضا کار بھرتی کیے گئے۔ شروع یہ میں یہ ’باسیج مزاحمتی فورس‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ سنہ ایرانی مجلس شوریٰ [پارلیمان] نے 1980ء اس کی حمایت میں رائے شماری کے بعد اس کی باقاعدہ منظوری دی۔

باسیج کے گروپ اور تعداد

ایران میں پاسداران انقلاب میں بھرتی کے قانون کے آرٹٰیکل 13 کے تحت باسیج میں بھرتی شخص کو پاسداران انقلاب کا رضاکار کہا جاتا ہے۔ پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کی تعداد 20 ملین افراد تک لے جانے کا ہدف مقرر ہے۔

اسی آرٹیکل کے تحت اس کے تین حصے کیے گئے۔ ایک روٹین موبلائزیشن فورسز، ایکٹیوموبلائیزیشن اور اسپیشل موبلائشیزن کے نام دیے گئے۔

باسیج کے اہداف

باسیج فورسز کی ویب سائیٹ پر جائیں تو اس پر اس فورس کے درج ذیل مقصد بیان کئے گئے ہیں۔

حزب اللہ فوج کی تشکیل سے متعلق آیت اللہ روح اللہ خمینی کے اقوال واحکامات کو عملی شکل دینا۔

ملک کے دفاع کے لیے تمام شعبوں میں ہر طرح کی تیاری اور وسائل بہم پہنچانا۔

لڑائی کی صلاحیت پیدا کرنا اور وسیع پیمانے پر کلاسیکی کارروائیوں کی صلاحیت حاصل کرنا۔

قدرتی آفات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ضروری صلاحیت مہیا کرنا۔

ملک کی تعمیر و ترقی میں حکومت کی مدد کرنا۔

جنگ کے لیے بھرتی اور بچوں کے حقوق کی پامالی

باسیج فورس میں بچوں کی بھرتی اور مذہبی مدارس کے طلباء کو شامل کرنا کوئی نیا معاملہ نہیں۔ سنہ 1980ء میں عراق ۔ ایران جنگ کے آٹھ سالہ عرصے میں 12 سے 17 سال کے ہزاروں بچوں کو باسیج ملیشیا میں بھرتی کیا گیا۔ انہیں محدود پیمانے پرعسکری تربیت دی گئی جس کےابعد انہیں پاسداران انقلاب کی صفوں میں شامل کر دیا گیا۔

گذشتہ برس دسمبر میں انسانی حقوق کی تنظیم ‘ہیومن رائٹس واچ‘ نے ایک رپورٹ میں الزام عاید کیا کہ ایران میں باسیج فورس اور پاسداران انقلاب کی بھرتی کے دوران بچوں کے حقوق کی پامالیاں کی جا رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے ایک 13 سالہ ایرانی بچے کا انٹرویو کیا جو شام میں جنرل قاسم سلیمانی کی زیر قیادت فیلق القدس میں لڑائی میں شریک رہنے کے بعد ایران لوٹا تھا۔

انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ بچوں کے عالمی قوانین اور بین الاقوامی پروٹوکول برائے اطفال کے تحت 18 سال سے کم عمر کے افراد بچوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں کسی فوجی مہم جوئی کے لیے بھرتی کرنا بچوں کے حقوق پامال کرنے کی کوشش ہے۔ ایران میں پندرہ سال سے بھی کم عمر کے بچوں کو عسکری مقاصد کے لیے بھرتی کیا جاتا ہے۔

باسیج کی شام میں ہلاکتیں

اکتوبر 2015ء میں شام میں باسیج فورس کا آخری لیڈر نادر حمید دیلمی ہلاک ہوا۔ اس کی موت شام کے القنطیرہ شہر میں اپوزیشن فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ہوئی۔

دسمبر 2016ء کو باسیج ملیشیا کےسربراہ داؤد غودرزی نے کہا کہ بسیج ملیشیا کے 50 جنگجو شام کے مسلح اپوزیشن گروپوں کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے۔

باسیج کی سائبر جنگ میں شمولیت

دسمبر 2016ء کو باسیج ملیشیا کے مدارس میں طلباء کے سربراہ علی صابر ھامانی نے کہا کہ طلباء نے سائبر جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے فورس کے زیرانتظام سائبر بریگیڈ تشکیل دیا ہے۔ سائبر بریگیڈ تشکیل دینے کا مقصد ملک میں سائبر کارروائیوں کے لیے طلباء کو متحرک کرنا اور انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ مل کر انٹرنیٹ پر ایران مخالف سرگرمیوں کی روک تھام کرنا تھا۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’فارس‘ کے مطابق مسٹر ہامانی نے کہا کہ باسیج کے زیر انتظام ایک اسپیس کمیٹی نے تشکیل دی گئی ہے جو طلباء کو سوشل میڈیا پر ایران مخالف مواد سے نمٹنے، ملک کے لیے ضرر رساں ویب سائیٹس کی نشاندہی اور انہیں بلاک کرنے اور دیگر آن لائن حربوں سے نمنٹے کی تربیت دی جائے گی۔