.

"میں عبقری شخصیت کا مالک ہوں": ڈونلڈ ٹرمپ کی خود ستائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے اپنی ذہنی صحت پر ظاہر کیے جانے ولے شبہات کو مسترد کر دیا ہے۔

ان کی ذہنی صحت پر ایک کتاب میں سوال اٹھایا گیا ہے جو کسی بم کے گولے کی طرح گرا تھا۔ انھوں نے کتاب کو 'فسانہ' اور مصنف کو 'فراڈ' کہا ہے۔ اس سے قبل انھوں نے کتاب کو 'جھوٹ کا پلندہ' کہا تھا۔

ان کا یہ بیان اس سے قبل ٹوئٹر پر ان کی تردید کی کڑی تھا جس میں انھوں نے خود کو 'بہت مستحکم ذہین وفطین' اور 'انتہائی سمارٹ' قرار دیا۔

مائیکل وولف کی نئی کتاب میں کہا گیا ہے کہ صدر کے قریبی مشیر ان کے عہدے کے اہل ہونے پر سوال اٹھاتے ہیں۔

کیمپ ڈیوڈ میں پارٹی کے سینیئر اراکین سے گذشتہ روز ملاقات کے بعد انھوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مسٹر وولف کی تفصیل کی تردید کی اور دعوی کیا کہ ان کی کوشش 'افسانوی تصنیف ہے۔'

اپنی ذہنی صلاحیت کے سوال پر انھوں نے کہا: 'میں بہترین کالج میں گیا، میں بہترین طالب علم تھا، وہاں سے فراغت کے بعد میں نے اربوں ڈالر کمائے، بہترین تاجروں میں شمار ہوا، ٹی وی کے شعبے میں گیا جہاں دس سالوں تک زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ جیسا کہ آپ سب نے سنا ہوگا۔'

انھوں نے مسٹر وولف کی ان سے ساڑھے تین گھنٹے باضابطہ ملاقات کے دعوے کی نفی کی۔ صدر ٹرمپ نے کہا: 'یہ ہوئی نہیں تھی، یہ سب خیالی ہے۔' تاہم انھوں نے یہ تسلیم کیا کہ کسی وقت مصنف نے ان کا انٹرویو ضرور کیا ہے۔

'فائر اینڈ فیوری: انسائڈ دا ٹرمپ وائٹ ہاؤس' نامی کتاب میں صدر ٹرمپ کی تصویر کچھ جلد باز، پالیسی کو سمجھنے سے قاصر اور خود کو دہرانے اور شیخی بازی کی عادت سے مجبور جیسے شخص کی حیثیت سے ابھری ہے۔

اس کتاب کا اثر کیمپ ڈیوڈ کی میٹنگ پر پڑا ہے جہاں اہم ریپبلکن رہنما کو سنہ 2018 کے لیے قانون سازی کی ترجیحات طے کرنا تھی۔