.

جڑواں ننھی فلسطینی بہنوں کا سعودی عرب میں میراتھن آپریشن

آپریشن کی کامیابی کے 70 فی صد امکانات، ایک بچی کا زندہ بچنا مشکل: ڈاکٹرز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین سے تعلق رکھنے والی جسم سے جڑی دو کم سن فلسطینی بچیوں فرح اور حنین کی میراتھن سرجری جاری ہے۔ بچیوں کا آپریشن سعودی شاہی دیوان کے مشیر اور شاہ سلمان ریلیف سینٹر کے جنرل سپر وائزر ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربعیہ کی زیر نگرانی ماہر اور پیشہ ور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کر رہی ہے۔

الریاض میں قائم شاہ عبداللہ چلڈرن اسپتال میں جاری آپریشن کے چھ مراحل مکمل ہوچکے ہیں۔ بچیوں کی حالت کافی مستحکم ہے اور سرجری کا عمل معمول کے مطابق جاری ہے۔ چھٹے مرحلے میں تین گھنٹے بچیوں کے پیشاب کے نظام اور پیٹ کی وال کا آپریشن کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے ایک بچی فرح کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہیں۔ خدشہ ہے کہ وہ جلد ہی وفات پاجائے گی کیونکہ اس کا دل، پھیپھڑے اور دماغ نہیں۔

ڈاکٹر الربیعہ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں یہ اپنی نوعیت کا 45 واں آپریشن ہے۔ سعودی عرب جڑواں بچوں کے آپریشن جیسے انسان دوست عمل میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔

خیال رہے کہ دونوں فلسطینی بچیوں کوسعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر سرجری کے لیے چند روز قبل سعودی عرب منتقل کیا گیا تھا۔

قبل ازیں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن عبدالعزیز نے بھی دونوں فلسطینی بچیوں کے علاج کے لیے تمام ضروری اقدامات کی ہدایت کی تھی اور انہیں سعودی طبی ماہرین کی زیرنگرانی ایک دوسرے سے الگ کرنے کے احکامات دیے تھے۔ دونوں بچیوں کے دھڑ آپس میں ملے ہوئے ہیں جب کہ ان کے جسم کے بعض اندرونی اعضاء بھی ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔

بچیوں کی آپریشن ٹیم میں شامل ڈاکٹر محإد النمشان نے بتایا کہ دونوں بچیوں کی سرجری اتوار کو مقامی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے شروع ہوئی۔ ان کا آپریشن 9مراحل میں مکمل ہوگا۔ پہلا مرحلہ انستھیزیا کا تھا۔ دوسرے مرحلے میں بچیوں کے مثالے کی انڈواسکوپی کی گئی۔ تیسرا مرحلہ بچیوں کو آپریشن کی تیاری اور ان کے اندرونی اعضاء کو ایک دوسرے سے الگ کرنے پر مشتمل تھا جو ڈیڑھ گھنٹے جاری رہا۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر النمشان نے کہا کہ بچیوں کا آپریشن 15 گھنٹے جاری رہے گا۔ اس کی کامیابی کے 70 فی صد امکانات ہیں۔