.

دا ٹیلی گراف نے سیف الاسلام قذافی سے متعلق من گھڑت مضامین ہٹا دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی روزنامے دا ٹیلی گراف نے لیبیا کے مقتول صدر کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کے بارے میں من گھڑت اور غلط معلومات پر مبنی مضامین ان کے وکیل کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کی دھمکی کے بعد اپنی ویب گاہ سے ہٹا دیے ہیں۔

دا ٹیلی گراف کے ان مضامین میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ سیف الاسلام قذافی لندن میں ایک محل کے مالک ہیں۔سیف قذافی کے وکلاء نے اس دعوے کو جھوٹا اور بے بنیاد ثابت کردیا ہے۔ اس کے بعد برطانوی اخبار نے سات سال پرانے یہ مضامین حذف کر دیے ہیں۔

ان کے وکیل کریم خان نے کہا ہے کہ ’’ یہ مضامین توہین آمیز تھے اور انھیں آج تک لوگ پڑھتے چلے آ رہے تھے‘‘۔

کریم خان نے دسمبر میں روزنامہ ٹیلی گراف کو یہ دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے یہ ’’ بے بنیاد‘‘ اور نادرست مضامین اپنی ویب سائٹ سے نہیں ہٹائے تو پھر اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی اور ہتکِ عزت کی درخواست دائر کردی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ان مضامین میں سیف الاسلام کے بارے میں ارادی طور پر غلط تاثر دیا گیا تھا ، ان کی شہرت کو داغ دار کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ انھوں نے لندن میں ایک پُر تعیش مکان کی خریداری پر لاکھوں، کروڑوں پاؤنڈز اڑا دیے تھے۔

ان مضامین میں سے ایک ٹیلی گراف نے 9 مارچ 2011ء کو شائع کیا تھا اور اس کو یہ عنوان دیا تھا:’’ لندن کے ایک مکان پر نظر، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے وہ لیبیا کے سیف الاسلام قذافی کا ملکیتی ہے‘‘۔