.

سرطان کے مریضوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کرنے والی طالبہ کا انجام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں ایک اسکول انتظامیہ کی جانب سے 14 سالہ طالبہ کی سرزنش کی گئی ہے جس نے سرطان کے مریضوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لیے اپنے سر کے بال مُںڈوا کر انہیں ایک خیراتی ادارے کو عطیہ کر دیے تھے۔ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ طالبہ نے قوانین و ضوابط کو توڑا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سنہری زلفوں کی مالک طالبہ نیما بیلڈوین نے ایک خیراتی ادارے کے واسطے مال جمع کرنے کے لیے اپنے بالوں کو منڈوا دیا۔ یہ خیراتی ادارہ سرطان کے مریضوں کے لیے وِگوں کی تیاری کے سلسلے میں بالوں کو کام میں لاتا ہے۔ اس موقع پر طالبہ کے جذبے کو سراہنے کے بجائے برطانوی کاؤنٹی کورنوال کے قصبے پینزینس کی خاتون استاد مونٹس پائی نے نیما بیلڈوین کو اسکول کی پالیسی کی مخالفت کی پاداش میں دیگر تمام طلبہ سے علاحدہ کر دیا۔

نیما کی والدہ کے مطابق مطابق کرسمس کے موقع پر اپنی بیٹی کے ارادے کے بارے میں جان کر وہ حیرت زدہ رہ گئیں تاہم اتنی سی عمر میں ایسی سوچ رکھنے پر نیما یقینا ستائش کے قابل ہے۔

اسکول کی جانب سے نیما کو تمام طلبہ سے علاحدہ کر دینے پر نیما کی والدہ کو شدید غم وغصّہ ہے۔ اسکول انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نیما کے بالوں کی لمبائی ایک سینٹی میٹر تک ہونے کا انتظار کیا جائے اس کے بعد اُسے اسکول کی کلاس میں واپس آنے کی اجازت دے دی جائے گی۔ تاہم نیما اور اس کی ماں نے اس فیصلے پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

نیما کی والدہ کا کہنا ہےکہ اُن کی بیٹی ہمیشہ اچھے نمبر حاصل کر کے اساتذہ کی نظروں میں اونچا مقام رکھتی ہے اور تمام ہی لوگ اسے انتہائی مہذّب اور خوب صورت قرار دیتے ہیں۔