.

یمنی پینشنروں کی یادداشت میں حُوثیوں کی لُوٹ مار کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں پینشنرز ایسوسی ایشن نے باغی حوثی ملیشیا پر الزام عائد کیا ہے کہ اُس نے صنعاء کے مرکزی بینک میں جمع شُدہ 20 کھرب یمنی ریال 'جنرل اتھارٹی فار انشورنس اینڈ پینشن' کے نام پر لُوٹ لیے۔

ایسوسی ایشن نے عالمی بینک کے سربراہ کو ارسال کی گئی ایک "یادداشت" میں اپیل کی ہے کہ لوُٹی جانے والی رقم کی واپسی کے لیے حوثی ملیشیا پر دباؤ ڈالا جائے۔

یاد رہے کہ پینشن وصول کرنے والے افراد عدالتی حکم حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے جس میں حوثی ملیشیا کو اس بات کا پابند بنایا گیا تھا کہ وہ ایک سال تک مذکورہ افراد کو پینشن کی ادائیگی کرے، یہ رقم 5 ارب یمنی ریال کے قریب بنتی ہے۔ تاہم اس فیصلے پر عمل درآمد کی کوئی صورت سامنے نہ آ سکی۔ اس کے نتیجے میں پینشنرز ایسوسی ایشن ایک سرکاری یادداشت کے ذریعے واشنگٹن میں عالمی بین کے سربراہ سے اپیل کرنے پر مجبور ہو گئی۔

صنعاء میں انتظامی عدالت نے گزشتہ برس نومبر میں اپنے فیصلے کی روشنی میں عالمی بینک سے مطالبہ کیا تھا کہ مرکزی بینک سے باغی ملیشیا کے ہاتھوں لُوٹی جانے والی رقوم کو فوری طور پر یمنی پینشنروں کے بینک کھاتوں میں منتقل کیا جائے۔ تاہم حوثی باغیوں نے اس پر عمل کرنے سے انکار کر دیا۔

یاد رہے کہ یمن میں شہری اور عسکری سیکٹروں میں رجسٹرڈ پینشنروں کی تعداد 1.4 لاکھ افراد کے قریب ہے۔