.

نامزدگی کی صورت میں اوپرا، ٹرمپ کے ساتھ اس وڈیو کا کیا کریں گی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معروف امریکی اداکارہ اور خاتون میزبان اوپرا ونفری اگر واقعتا 2020 کے انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مدّ مقابل آنے کے عزم پر عمل پیرا ہو گئیں تو انہیں 1988 کے ایک وڈیو کلپ کے نتائج کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی تیار رہنا ہوگا۔ اس وڈیو کلپ میں اوپرا اُس وقت پراپرٹی کی دنیا کی مشہور شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ کا انٹرویو کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔

ٹرمپ نے امریکی صدارت کے لیے اپنی نامزدگی سے کئی دہائیوں پہلے ایک مرتبہ ونفری سے از راہِ مذاق یہ کہا تھا کہ اگر انہوں نے فیصلہ کیا تو نائب صدر کے منصب کے لیے اوپرا ونفری "اُن کا پہلا انتخاب" ہو سکتی ہیں۔

پیر کے روز گولڈن گلوب ایوارڈز کی تقریب میں "خواتین کے خلاف ہراسیت کا مقابلہ کرنے" کے حوالے سے انعام جیتنے کے موقع پر پُراثر خطاب کے بعد یہ خبر پھیل گئی کہ اوپرا ونفری آئندہ صدارتی انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ونفری اس حد تک اثر انگیز ثابت ہوئیں کہ ٹوئیٹر پر لوگوں نے ان کی صدراتی نامزدگی کے بارے میں ہیش ٹیگ بھی پھیلا دیا۔ اس کے چند گھنٹوں بعد امریکی میڈیا کی رپورٹوں میں باور کرایا گیا کہ ونفری آئندہ انتخابات میں ٹرمپ کے خلاف نامزدگی کے لیے سنجیدگی سے سوچ رہی ہیں۔ میڈیا نے ونفرے کی بعض مقرّب شخصیات کو بطور حوالہ پیش کیا تاہم امریکی اداکارہ اور خاتون میزبان کی جانب سے خود ابھی تک اس بات کا دو ٹوک اعلان سامنے نہیں آیا۔

گذشتہ انتخابات میں اوپرا ونفری نے ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن کی حمایت کی تھی۔

سال 1988 میں ٹرمپ اور ونفری کو یکجا کرنے والے وڈیو کلپ کا دورانیہ تقربیا 3 منٹ ہے اور یہ انٹرویو معروف پروگرام "ونفری شو" کے لیے ہوا تھا۔

کلپ میں ڈونلڈ ٹرمپ نیلے رنگ کا سُوٹ زیب تن کیے ہوئے ایک نفیس نوجوان کے طور پر نظر آ رہے ہیں۔ اس دوران ونفری لوگوں کے بیچ بیٹھ کر ٹرمپ سے سوال کر رہی ہیں کہ "کیا آپ صدارتی انتخابات میں بطور امیدوار نامزدگی کے بارے میں سوچ رہے ہیں ؟ کیا آپ ایسا کریں گے؟"۔

یاد رہے کہ 1988 میں ریپبلکن امیدوار جارج بُش سینئر اور ڈیموکریٹک امیدوار مائیکل ڈوکیکس کے درمیان وہائٹ ہاؤس تک پہنچنے کے لیے مقابلہ تھا۔ آخرکار جارج بُش سینئر نے رونلڈ ریگن کی جاں نشینی کے مقابلے میں فتح پائی۔

ٹرمپ نے ونفری کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ "میں اپنے کام سے محبّت کرتا ہوں۔ تاہم میں اس اقدام کو مکمل طور خارج از امکان بھی نہیں قرار دے سکتا کیوں کہ اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے میں اسے دیکھ کر تھک چکا ہوں"۔ ٹرمپ نے باور کرایا کہ اگر انہوں نے انتخابات میں حصّہ لینے کا فیصلہ کیا تو وہ کامیاب ہو جائیں گے اس لیے کہ وہ ہار نہیں جانتے۔ سال 2016 کے انتخابات میں واقعتا ایسا ہی ہوا۔