.

حوثیوں نے بحر احمر میں عالمی جہاز رانی روکنے کی پھر دھمکی دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نواز حوثی شدت پسندوں نے ملک میں جاری جنگ میں بھاری جانی نقصان اٹھانے کے بعد بحر احمر میں عالمی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حوثیوں کی قائم کردہ غیر قانونی انقلابی کونسل کے چیئرمین صالح الصماد نے دھمکی دی ہے کہ حوثی ملیشیا بحر احمر میں بین الاقوامی جہاز رانی کو کسی بھی وقت روک سکتے ہیں۔ انہوں نے بحر احمر میں جہازوں کی نقل وحرکت روکنے کو ’تزویراتی آپشن‘ قرار دیا اور کہا کہ اگر مغربی یمن کی طرف پیش قدمی جاری رہی تو اور تنازع کا سیاسی حل بند گلی میں داخل ہو گیا تو ان کے پاس بحر احمر میں عالمی جہازوں کو گذرنے سے روکنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہو گا۔

اقوام متحدہ کے یمن کے لیے قائم کردہ نائب مندوب معین شریم سے ملاقات میں حوثی لیڈر کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا کسی بھی وقت بحر احمر میں کشتیوں کی آمد ورفت روک سکتی ہے۔ ان کا اشارہ بحر احمر میں باب المندب سے گذرنے والی بحری ٹریفک کی جانب تھا جسے بند کرنے کی دھمکیاں پہلے بھی کئی بار آ چکی ہیں۔

حوثی لیڈر نے اقوام متحدہ کے امن مندوب اسماعیل ولد الشیخ احمد پرکڑی تنقید کی اور کہا کہ اقوام متحدہ کے ایلچی نے انہیں بہت مایوس کیا ہے۔ انہوں نے یمن کے بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی کوششوں پر شبے کا اظہار کیا اورکہا کہ ہم ایک ایسے مقام میں داخل ہو گئے ہیں سے اب واپسی ناممکن ہے۔ یمن میں جاری تنازع کے سیاسی حل کے لیے اقوام متحدہ پر اعتبار کرنا اب بے معنی ہوگیا ہے۔

تاہم صالح الصماد کا کہنا تھا کہ اگر اقوام متحدہ سنجیدگی سے ان کے مطالبات پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائے تو ان کی جماعت مذاکرات کے لیے تیار ہو گی۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کی ڈپٹی امن ایلچی نے کہا کہ یمن کے بحران کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پرعمل درآمد میں مضمر ہے۔

خیال رہے کہ یمن میں باغیوں کی جانب سے عالمی جہازوں کو روکنے کی دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری جانب یمنی فوج تیزی کے ساتھ ملک میں باغیوں کو شکست دیتے ہوئے یمن کے اہم علاقوں کا کنٹرول حاصل کر رہی ہے۔