.

حوثی ملیشیا نے صنعاء میں کرنسی ایکس چینج کے دفاتر سے لاکھوں ریال لوٹ لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعا ء میں حوثی شیعہ باغیوں نے اب مسلح ڈکیتیاں شروع کردی ہیں ۔ انھوں نے کرنسی ایکس چینج کے تین دفاتر میں دھاوے بول کے بھاری رقوم لوٹ لی ہیں اور وہ وہاں سے دوسرا قیمتی سامان بھی اٹھا کر لے گئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق حوثیوں کے مسلح افراد نے صنعاء کے وسط میں واقع الکریمی ایکس چینج کے دفتر پر مسلح دھاوا بولا تھا ۔ وہ پانچ بکتر بند گاڑیوں پر سوار ہو کر آئے تھے۔انھوں نے سب سے پہلے نگرانی کے لیے نصب کیمروں کو ناکارہ بنا دیا ۔پھر وہاں موجود تمام نقد رقوم لوٹ لیں اور جاتے ہوئے اپنے ساتھ کمپیوٹرز اور برقی آلات بھی لے گئے۔انھوں نے دفتر کے ملازمین کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حوثی جنگجو اپنے ساتھ تھیلے لے کر آئے تھے اور و ہ ان میں نقد رقوم ڈال کر چلتے بنے ہیں۔ ایک تخمینے کے مطابق انھوں نے لاکھوں ریال لوٹے ہیں۔حوثیوں نے صنعا ء میں کرنسی ایکس چینج کے دو اور دفاتر السیفی اور السوید سے بھی لاکھوں ریال لوٹے ہیں اور انھیں پھر بند کر دیا ہے۔

بنک کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی وارداتیں بنک کاری کے شعبے کو تباہ کرنے کا ایک منظم منصوبہ ہے جبکہ حوثی ملیشیا اپنی لوٹ مار کی وارداتوں کا یہ جواز پیش کررہی ہے کہ وہ یمنی ریال کو مستحکم کرنا چاہتی ہے۔تاہم ذرائع نے اس پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ لوٹ مار کی رقوم سے کرنسی کو تباہی سے دوچار ہونے سے کیسے بچایا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حوثی اپنے روزمرہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیے سرکاری دفاتر سے رقوم لوٹ رہے ہیں اور ایکس چینج دفاتر کو بھی لوٹ مار کے بعد بند کررہے ہیں۔

دریں اثناء حوثی شیعہ باغیوں نے اِب شہر میں بعض تاجروں کو جنگ کا تاوان نہ دینے کی پاداش میں اغوا کر لیا ہے۔ایک مقامی ذریعے کا کہنا ہے کہ یرغمال بنائے گئے افراد میں سونے کے تین تاجر بھی شامل ہیں۔ان کے نام محمد آل ثناء ، خلیل القدیمی اور عبدالملک ابو الرجال ہیں۔